اقامه جماعت كمیٹی كے سربراه حجۃ الاسلام والمسلمين محسن قراﺋتی نے ايكنا كے ساتھ ايك خصوصی گفتگو كرتے هوۓ كها كه قرآن گفتگو كو هر كام كا سر آغاز سمھجتا هے اور خود اس كا نزول بھی ٫٫اقراء باسم ٬٬ كے ذريعه گفتگو هی سے هوا هے –
انهوں نے كها كه اگر قرآن كے اسلوب بيان كو ديكھا جاۓ تو گفتگو كا عنصر بڑا نماياں نظر آتا هے-كهیں تو خو ذات كبريا ٬كهیں پيغمبر اكرمۖ ٬كهیں فرشتے اور انسان حتی شيطان رجيم بھی گفتگو كرتا هوا نظر آتا هے –يه الفاظ و حروف هی هوتے هیں جو دلوں كو نور ايمان سے منور كرتے هیں يا ظلم و كفر كی گھٹا ٹوپ فضاوں میں جھونك ديتے هیں –انهوں نے زبان كی اهميت قرآن كی آيات سے بيان كرتے هوۓ كها كه ٫٫پيغمبر نے منافقين سے فرمايا كه يا هم درست كهتے هیں يا تم صحيح كهتے هو آیۓ اس پر گفتگو كرتے هیں-
انهوں نے گفتگو كو اﺋمه طاهرين كی سيرت بيان كيا اور كها كه يه گفتگو نه صرف زبان تھی بلكه عمل اور كتبی بھی تھی چنانچه حضرت علی كے معاويه كے نام مكتوب اور كربلا كی سياسی فضا كو جاننے كےلیے امام حسين كے خطوط اس پر شاهد هیں-