ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی (ايكنا) كے بلاگ گروپ نے اپنے خط میں اسلام میں سلام كی اھميت بيان كرتے ہوۓ لكھا ہے كہ سلام میں سبقت انسان كے اخلاق حسنہ اور بلندی كردار كی علامت ہے ليكن ادب كا تقاضا یہ ہے كہ چھوٹے بڑوں كو سلام كریں-
پيغمبر اعظم نے فرمايا كہ چھوٹے بڑوں كو سلام كریں –
اكيلا شخص جماعت كو سلام كرے ،اقليت اكثريت كو سلام كرے سوار پيدل چلنے والے كو سلام كرے راستہ چلنے والا كھڑے ہوۓ انسان كو سلام كرے –كھڑے ہوۓ كو چاہیے كہ وہ بیٹھے ہوۓ انسان كو سلام كرے-
انہوں نے مزيد لكھا كہ سلام بلند آواز سے كرنا چاہیے اور جواب سلام بھی واضح اور آشكار طو رپر دينا چاہیے كہ سلام كرنے والا اسے سن لے-
بلاگ گروپ نے آخر میں لكھا كہ اگرچہ سلام كرنا مستحب ہے ليكن جواب دينا واجب ہے ليكن جس نے سلام كرنے میں سبقت كی ہے اسے زيادہ ثواب ملے گا-
جس نے سلام كيا ہے اسے بہتر طريقے سے جواب ديا جاۓ اس لیے كہ سلام ايك مومن كی طرف سے ايك قسم كا ہدیہ ہے اور ہدیہ كا جواب بہتر ھدیہ پيش كرنا ہے –