ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی (ايكنا) نے ٫٫برناما٬٬ سے نقل كيا ہے كہ تركی حكومت كے ترجمان نے كہا كہ پوپ كے اسلام كے بارے میں كچھ مدت پہلے كیے گۓ اظہارات سے مسلمانوں كے درميان جو شديد رد عمل سامنے آيا تھا پوپ كے تركی كے دورے سے اس شدت میں اعتدال آۓ گا اور یہ دورہ اسلام اور مغرب كے درميان تعلقات كی بہتری كے لیے مٶثر ذريعہ ثابت ہوگا-
مذھبی سرگرميوں كے سنٹر كے سربراہ ٫٫علی بردك اوغلو٬٬نے پوپ كے چار روزہ دورے كو اديان كے مابين ساز گار گفتگو كے لیے مٶثر اقدام قرار ديا تركی كے وزير خارجہ نے بھی پوپ كے دورے كو يورپی معاشرے میں اسلام اور مسلمانوں كے بارے میں پاۓ جانے والے بے تعصبات كو كم كرنے میں موثر عامل قرار ديا