فكر و نظر گروپ :مرزا كوچك خان كے نام سے معروف مرزا يونس سنہ ۱۲۵۹ ھ-ش بمطابق سنہ ۱۲۹۸ ھ –ق كو شہر رشت میں پيدا ہوۓ –انہوں نے اپنی زيادہ تر تعليم رشت اور تہران كے شہروں میں حاصل كی-مرزا سنہ ۱۲۸۶ ھ-ش كو گيلان میں حريت طلب تحريكوں میں شامل ہوگۓ اور محمد علی شاہ قاجار كو سرزنش كرنے كی خاطر ،تہران كی طرف روانہ ہوۓ –
ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی ايكنا كی رپورٹ كے مطابق مرزا كوچك خان كے نام سے معروف مرزا يونس سنہ ۱۲۵۹ ھ-ش بمطابق سنہ ۱۲۹۸ ھ –ق كو شہر رشت میں پيدا ہوۓ –انہوں نے اپنی زيادہ تر تعليم رشت اور تہران كے شہروں میں حاصل كی-مرزا سنہ ۱۲۸۶ ھ-ش كو گيلان میں حريت طلب تحريكوں میں شامل ہوگۓ اور محمد علی شاہ قاجار كو سرزنش كرنے كی خاطر ،تہران كی طرف روانہ ہوۓ –
مرزا كوچك خان نے بعد میں تحريك جنگل كی بنياد ركھی اور سنہ ۱۲۹۴ ھ-ش كے آواخر میں پہلی جنگ عظيم كے دوران ايران كے حالات خراب ہونے اور غير ملكيوں كے تسلط كو ديكھتے ہو ۓ تالش كے علاقہ میں ٫٫اتحاد اسلام ٬٬ نامی تنظيم تشكيل دی سنہ ۱۹۱۹ء میں ايران اور برطانیہ كے درميان ايك قرار داد منعقد ہوئی جس كے نفاذ سے ايران میں برطانیہ كا اثر و رسوخ بہت زيادہ ہوجاتا –اس قرار داد كے انعقاد نے ايران میں غير ملكيوں كی مداخلت كے خلاف قيام منجملہ تحريك جنگل كے قيام كا موقع فراہم كيا –
اخر كار مرزا كوچك خان اور اس كے انقلابی اور معنوی افكار سے متاثر ہونے والے وفادار ساتھيوں نے گيلان میں مسلح قيام كا آغاز كيا اور بہت كم عرصہ میں اس علاقہ كے لوگوں نے دل كھول كر ان كی حمايت كی –در اين اثنا روسی برطانوی اور حكومتی افواج نے عليحدہ عليحدہ يا متفقہ طور پر اس تحريك كو نابود كرنے كےلیے جنگل كے ان گوريلا گروپوں كے ساتھ جنگ شروع كردی اور یہ امر اس بات كی عكاسی كرتا ہے كہ تحريك جنگل كے قاﺋد كے افكار اور مقاصد ،ان تين طاقتوں میں سے كسی ايك كے ساتھ بھی مطابقت نہیں ركھتے تھے-اگرچہ مرزا نے ابتدا میں كئ واضح كاميابياں حاصل كیں ليكن حكومتی افواج كے ساتھ لڑائی كے بعد ،روس اور برطانیہ كی سازشوں اور تحريك كے اصلی كاركنوں كے درميان تفرقہ كی وجہ سے مرزا كی افواج پراگندہ ہوﮔﺋیں –
اپنی افواج كو متحد كرنے كے لیے مرزا اپنے شہر سے نكلے ہوۓ تھے كہ برف اور سخت سردی كی وجہ سے وہ شمال ايران كے جنگلوں میں اپنی طاقت كھو بیٹھے –ان كا تعاقب كرنے والے رضا خان كے كارندوں نے مرزا كو بے جان پايا اور آخر كار مرزا كے ايك خاﺋن ساتھی نے ان كا سر قلم كركے رضا خان كے لیے تحفہ كے طور پر بھيجا –مرزا كوچك خان جنگلی اسلامی دنيا كے اتحاد سے والہانہ عشق ركھتے تھے اور انہوں نے اس كی خاطر بہت محنت اور كوشش كی-انہوں نے كئی مرتبہ گيلان كی عوام كے سامنے اپنی تحريك كے ہدف اور مقصد كو بيان كرتے ہوۓ فرمايا:ميرا ہدف اور مقصد قوانين اسلام كو زندہ كرنا ہے اور انہوں نے اس بات كی ياد دہانی كروائی كہ مرزا اس وقت تك اسلحہ كو نيچے نہیں ركھے گا جب تك وہ مطﻤﺋن نہ ہوجاۓ كہ ايرانی عوام غير ملكيوں كے تسلط اور حكومت كے ظلم و ستم سے محفوظ اور رفاہ اور بہبودی میں ہے –ملك كے اقتصادی اور سياسی ميدان میں خارجيوں كی تاخت و تاراج ،منافقوں كی سياست بازی، ملك كے پريشان حالات اور حكمرانوں كی نالاﺋقی ،باعث بنی كہ یہ روحانی اور انقلابی جوان ،سياست كے ميدان اور پھر جنگ كے ميدان میں كود پڑا یہاں تك كہ اس راہ میں شہادت كے رتبہ پر فاﺋز ہوا-مرزا كی شہادت كے بعد ان كے كچھ ساتھيوں نے اس تحريك جنگل كو زندہ ركھنے كی خاطر بہت كوششیں كیں ليكن فايدہ نہ ہوا اور یہ تحريك اپنے اختتام كو پہنچی -