ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی (ايكنا)كی رپورٹ كے مطابق اس پرامن احتجاجی دھرنے میں لوگوں كی تعداد بڑھتی جارہی ہے ۔
مظاہرين نے لبنان كے داخلی امور میں امريكہ ،برطانیہ ،جرمنی اور فرانس سميت مغربی ملكوں كی مداخلت كی مذمت كی اور قومی وحدت كی حكومت كی تشكيل كا مطالبہ كيا ۔
دوسری طرف سعد حريری كی جماعت كے حاميوں كی طرف سے مظاہرين كے ايك قافلے پر حملے كے بعد كہ جس میں دولبنانی جاں بحق او سولہ زخمی ہوگئےتھے ،تقريبا" بيس ہزار فوجيوں كو بيروت كے حساس علاقوں میں تعينات كرديا گيا ہے اور حفاظتی انتظامات سخت كردئے گئے ہیں لبنان كے آزاد قومی دھڑے كے سربراہ ميشل عون نے بھی گذشتہ روز سنيورا حكومت كے غير قانونی ہونے پر تاكيد كرتے ہوئے كہا ہے كہ اگر حكومت نے عوامی مطالبات نہ مانے تو مخالف گروہ كابينہ كے فيصلوں پر عمل درآمد نہیں كریں گے ۔
لبنانی پارليمنٹ میں عيسائيوں كی پارليمانی پارٹی كے سربراہ ابراہيم كنعان نے بھی اس بات پر زورديا ہے كہ لبنان میں شيعوں كی ايك تہائی آبادی كو مد نظر ركھتے ہوئے ان كے مطالبات كو نظر انداز نہیں كيا جاسكتا ۔
دوسری طرف چودہ مارچ گروہ كے سربراہ وليد جنبلاط نے ايك بار پھر لاكھوں لبنانيوں كے احتجاج كو نظر انداز كرتے ہوئے كہاہے كہ بے پناہ عوامی مخالفت كے باوجود حكومت مستعفی نہیں ہوگی ۔