ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی ايكنا كی رپورٹ كے مطابق قرآن مجيد عقائد و احكام اسلامی میں لاثانی اسلوب بيان كی وجہ سے بہت سارے مسيحی علماء كی توجہ كا مركز بنا یہی وجہ ہے كہ ۱۱۴۳ ء میں فرانس كے معروف راھب پیٹر محترم نے اس كا لاتينی زبان میں ترجمہ كرنے كی درخواست كی-
اور اس كام كےلیے اسپين كے دو راھبوں ،رابرٹ ،رویٹنی اور ھرمن دلماطی كا انتخاب كيا جنہوں نے ايك عرب كی وساطت سے قرآن مجيد كا لاتينی زبان میں ترجمہ كيا-اس زمانے میں جب اسلام كو يورپ میں پھيلنے سے روكا جا رہا تھا اس ترجمہ كی طباعت پر پابندی لگا دی گئئ،بالآخر ۴ سو سال كے بعد ۱۵۴۳ ء میں اس قرآن مجيد كے ترجمے كے اشاعت ہو گئی
اس ترجمہ كے ناقدين كا كہنا ہے كہ یہ ترجمه ، قرآن مجيد كی سو فيصد ترجمانی نہیں كرتا كيونكہ اس میں حذف ،اضافہ اور تحريف كی گئی ہے-