يونيورسٹی اور حوزہ كے استاد ڈاكٹر محمد علی رضائی اصفہانی نے آيت اللہ معرفت كی رحلت كی مناسبت سے ايكنا كے ساتھ اپنی بات چيت میں كہا كہ وہ اتنی عظيم خصوصيات كے حامل تهے كہ جن كی وجہ سے انہیں ايك شخص نہیں بلكہ ايك عظيم فكر سے تعبير كيا جانا چاہیے-
وہ اپنی آخری عمر تك تدريس اور تعليم میں مصروف رہے ۔ ان كی كتاب التفسير الاثری الجامع میں نۓ تفسيری نظريات بيان ہوۓ ہیں۰-
موصوف كی ديگر كتب میں التفسير المفسرون فی ثوبہ العشيب ،التمہيد فی علوم القرآن ،تاريخ قرآن ،شبهات و ردودحول القرآن الكريم وغيرہ –
ان كی ديگر خصوصيات میں ۳۰ سالہ تعليم دينے كا سلسلہ ہے جس میں انہوں نے كئی شاگردوں كی تربيت كی اور ان كی سب سے بارز خصوصيت مكتب تشيع كا عاقلانہ دفاع ہے-