ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی ايكنا كی رپورٹ كے مطابق بلاگ گروپ نے اپنے مضمون میں لكھا ہے كہ علامہ طباطبائی سے سوال كيا گيا كہ دعا قبول ہونے كی شرط كيا ہے تو انہوں نے كہا كہ خداوند عالم كا ارشاد ہے ادعونی استجب لكم مجھے پكارو میں تمہاری دعا كو مستجاب كروں گا
آيت اللہ طباطبائی نے كہا كہ اس آیہ كريمہ سے دعا كی قبوليت كے لیے دو باتیں سمجھ میں آتی ہیں
1. انسان واقعا دعا كرے استھزا اورمزاح كی خاطر نہ ہو چونكہ ارشاد ہو رہا ہے ﴿ادعو﴾ پكارو
دوسری شرط یہ ہے كہ خدا كو پكارو جيسا كہ ارشاد ہو رہا ہے ﴿نی﴾ مجھے غير خدا سے رابطہ قطع كر لو ہر گز یہ نہ تصور كرنا كہ استقلال كے ساتھ كوئی كچھ كر سكتا ہے-
اسی طرح استاد شيخ حسين انصاريان سے پوچھا گيا كہ كس چيز كے بارے میں دعا كریں تو انہوں نے جواب ديا كہ دعا كرنے والے مختلف طرح كے ہیں دعا انسان كی فكر كو بيان كرتی ہے كچھ لوگ ہیں جو فقط طالب دنيا ہیں اور طالب دنيا بھی دو طرح كے ہیں ايك گروہ وہ ہے اگر ان كی دعا قبول نہ ہوں تو غم گين ہو جاتے ہیں دوسرے لوگ وہ ہیں جو دعا قبول نہ ہونے پر غمگين نہیں ہوتے بلكہ صبر كرتے ہیںا ور پھر اپنی حاجات كو خدا كی بارگاہ میں پيش كرتے ہیں ليكن بعض لوگ وہ ہیں جو فقط طلب خير كرتے ہیں۰