مورخه ٢٣ ربيع الاول ١۴٢٨ ھ ـ ق بروز جمعرات" وحدت و انسجام اسلامی كيوں اور كيسے؟"كے موضوع پر قم المقدس میں سيمينار كا انعقاد

IQNA

حجة الاسلام سيد جواد نقوی

مورخه ٢٣ ربيع الاول ١۴٢٨ ھ ـ ق بروز جمعرات" وحدت و انسجام اسلامی كيوں اور كيسے؟"كے موضوع پر قم المقدس میں سيمينار كا انعقاد

15:09 - April 14, 2007
خبر کا کوڈ: 1536684
ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی ايكنا كے اعزازی خبر نگار كی رپورٹ كے مطابق قم المقدس میں ايك سيمينار ٫٫وحدت و انسجام اسلامی ٬٬كے موضوع پر منعقد ہوا جس میں حجة الاسلام سيد جواد نقوی نے اپنے خطاب میں اس موضوع پر روشنی ڈالی جس كا خلاصہ يوں ہے
وحدت كوئی وقتی يا زمانی موضوع نہیں ہے بلكہ موضوع وحدت ايك ھميشگی اور ريشہ دار موضوع ہےـ یہ ايك بدیہی اور واضح موضوع ہے ـ پوری كائنات پر قانون وحدت حاكم ہےـ
اسماء و صفات حسنہ الہیہ میں كثرت كے ساتھ ساتھ وحدت كا غلبہ ہے اگرچہ عالم طبيعت اور جھان ٬عالم كثرت ہے ليكن اس كے باوجود اس سے وحدت چھلكتی ہے – عالم تشريع میں بھی وحدت موجود ہےـ جس چيز كی اسے سب سے زيادہ ضرورت ہے وہ وحدت و انسجام ہے٫٫وحدت٬٬ عالم تكوين اور عالم تشريع میں ايك اہم اور حياتی موضوع ہے-
فرقہ سازی ٬فرقہ بازی كا موجب بنی ہے اور آج كے اس زمانہ میں ان سب عناصر ٬تركيبات اور اجزاء كی طرف تو زيادہ توجہ ہے ليكن اصلی موضوع "وحدت "متروك ہے-وحدت ٬صرف حكمت عملی ہی نہیں بلكہ وحدت حكمت نظری كا بھی حصہ ہے ـ
كيا وحدت امكان پذير ہے؟جی ہاں ممكن ہے اگر ھم سيرت پيغمبر اكرمۖ كا مطالعہ كریں اور اس سے درس لیں اور ديكھیں كہ بعثت سے پہلے لوگوں كی كيا صورت حال تھی اتنی جہالت ٬درندگی ٬عقب افتادگی اور ان سب كے باوجود وہ اتحاد كی لڑی میں پروۓ جا سكتے ہیں تو پھر آج تو بطريق احسن ہو سكتا ہے –كيونكہ اسلام كا آغاز تو ہوا ہی قبيلوں ٬جاہلوں اور درندہ صفت انسانوں سے كہ جنہیں اسلام نے متحد كر كے بھائی بھائی بنا ديا –
اسلام كی نگاہ میں وحدت كا موضوع ايك ذاتی اور مستقل موضوع ہے اور دين كے اقدار میں سے ايك اصلی قدر ہے اور بذاتہ ضروری ہے ـ كائنات عدل كی بنا پر قائم ہے ليكن عدل كا اہم ترين ركن وحدت ہےـ
جھان اسلام میں تفرقہ كے عوامل پر روشنی ڈالتے ہوۓ انہوں نے فرمايا:
۱:اسلامی سرزمين كو چھوٹے چھوڑے ٹكڑوں میں تقسيم كيا گيا اور ان كے درميان نامرئی خليج پيدا كی گئی
۲:اقوام:امت مسلمہ كے درميان قوميت كا احساس اجاگر كيا گيا اور قوموں كے درميان اختلاف اور قوم پرستی كو فروغ ديا گيا جو تفرقہ بازی كا سب سے بڑا عامل ہے
۳:مذاھب: مذاھب اور مسالك اور تفكرات و نظريات كی تقسيم كی گئی
اسلام اور دين كے دشمن نے اپنے آپ كو ان تينوں محور میں سے كسی میں بھی شريك نہیں كيا ہے –
موانع وحدت ﴿وحدت كی راه میں حايل ركاوٹیں﴾
قوم پرستی ٬وطن پرستی اور علاقہ پرستی٬ان تازہ خداٶں میں بڑا سب سے وطن ہے علامہ اقبال كے شعر كو بطور مثال پيش كرتے ہوۓ فرمايا جو پيراھن اس كا ہے وہ مذھب كا كفن ہے ٬اسلام تيرا ديس ہے تو مصطفوی ہے ٬
لسانی تعصب ٬تنگ نظری ٬وسعت صدری كا نہ ہونا ٬غلط توہمات٬سوء تفھم يعنی صحيح بات كو غلط سمجھنا اورجان بوجھ كر اس سے غلط پہلو نكالنا ٬مفاد پرستی ٬دين كی غلط شناخت ٬مطلق انديشی يعنی اپنے آپ كو بطور مطلق حق محض سمجھنا اور حق كے مساوی سمجھنا ٬تحزب ٬پارٹی بازی٬ ٬مقدسات كی بے حرمتی ٬وہ چيزیں جو وحدت كی كوششوں كو بے ثمر كرتی ہیں

آخر میں آپ نے اپنے بيان كو ان جملوں كے ساتھ اختتام پذير كيا كہ قرآن كريم نے وحدت كے جس موضوع كو بيان كيا ہے اسے وحدت كی رسی سے تعبير كيا ہے وہ جسموں كی وحدت اور انہیں ايك جگہ اكٹھا كرنا نہیں ہے بلكہ دلوں كی وحدت ہےـ ان بكھرے ہوۓ دانوں كو ايك دھاگے میں پرونے كی ضرورت ہے اس مشكل كو حل كرنا آج كی بنيادی ضرورت ہے -
نظرات بینندگان
captcha