ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی (ايكنا) كی رپورٹ كے مطابق بی بی سی اردو سروس نے كها ہے كه دارالحكومت اسلام آباد میں ايم ايم اے يعنی متحدہ مجلس عمل كی جانب سے جی نائن سيكٹر میں احتجاجی مظاہرہ كيا گيا جس میں كافی تعداد میں لوگوں نے شركت كی۔
مظاہرے كی قيادت قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور ايم ايم اے كے سيكریٹری جنرل مولانا فضل الرحمن اور ايم ايم اے كے مياں اسلم اور ديگر رہنماؤں نے كی۔ مولانا فضل الرحمن نے ملكہ برطانیہ كے اس اقدام كی مذمت كرتے ہوئے كہا ’ہم آج ايك بار پھر برطانیہ كو یہ جتلانا چاہتے ہیں كہ تم پاكستان كے يا عالم اسلام كے اربوں مسلمانوں كے اس غدار كو ايك اعزاز تو دے سكتے ہو ليكن یہ كبھی بھی تمہارا تحفظ نہیں كرسكیں گے اور مسلمان اپنے دشمنوں كا تعاقب كرتے رہیں گے تاوقتيكہ انہیں كيفر كردار تك نہ پہنچادیں۔‘
یہ ہر مسلمان كی رائے ہے، اگر اعجاز الحق يا پنجاب اسمبلی كے سپيكر نے ايسا كہا ہے تو بلكل درست كہا
قائد حزب اختلاف نے پاكستان پيپلز پارٹی كی چئرپرسن اور سابق وزير اعظم بے نظير بھٹو كو بھی تنقيد كا نشانہ بنايا اور الزام لگايا كہ وہ اس معاملے پر برطانیہ كا ساتھ دے رہی ہیں۔ انہوں نے كہا كہ ’كوئی بھی مسلمان خواہ كسی بھی حيثيت كا مالك ہو اگر وہ سلمان رشدی كی صف میں كھڑا ہوتا ہے، برطانیہ كی صف میں كھڑا ہوتا ہے وہ پاكستان كے مسلمانوں كے لیے قابل قبول نہیں ہوسكتا۔‘
قبل ازیں انہوں نے بی بی سی سے بات كرتے ہوئے مطالبہ كيا كہ برطانیہ سلمان رشدی كو پاكستان كے حوالے كرے تاكہ پاكستانی قانون كے مطابق ان كے خلاف توہين رسالت كے جرم میں كارروائی كی جا سكے۔واضح رہے كہ پاكستانی قانون كے تحت توہين رسالت كی سزا موت ہے۔
دریں اثناء ڈاكٹر طاہرالقادری كی پاكستان عوامی تحريك كے كاركنوں نے بھی جی نائن سيكٹر میں احتجاجی مارچ كيا اور سلمان رشدی، برطانیہ اور امريكہ كے خلاف نعرے لگائے۔مظاہرے كے ہاتھوں میں موجود پلے كارڈز میں سے ايك پر تحرير تھا ’سلمان رشدی كے لیے سر كا خطاب بين المذاہب ہم آہنگی كے لیے خطرہ ہے۔‘
كراچی سے رياض سہيل كے مطابق متحدہ مجلس عمل كی جانب سے جمعہ نماز كے بعد گرو مندر پر احتجاجی مظاہرہ كيا گيا، جس سے ايم ايم اے كے رہنما پروفيسر غفور احمد، مولانا غفور حيدری، سينٹر گل نصيب خان اور ديگر نے خطاب كيا
مقررين نے عوام سے اپيل كی برطانوی مصنوعات كا بائيكاٹ كيا جائے اور حكومت سفارتی تعلقات ختم كر دے۔
مذہبی رہنماؤں كا كہنا تھا برطانوی حكومت كے فيصلے پر او آئی سی خاموش ہے اور مسلم حكمرانوں نے بھی كوئی بيان جاری نہیں كيا ہے، وہ مغرب كے پٹھو ہیں۔
پروفيسر غفور احمد نے كہا كہ برطانیہ نے سلمان رشدی كو سر كا خطاب ديكر مسلمان دشمنی كا ثبوت ديا ہے۔
انہوں نے كہا كہ ’’شيطانی آيات‘ حالیہ دنوں میں نہیں بلكہ یہ بيس سال قبل لكھی گئی ہے۔ اس كی اشاعت كے وقت بھی دنيا بھر میں احتجاج كيا گيا تھا، آج ٹونی بليئر كی حكومت كو خيال آيا كہ رشدی كو سر كا خطاب ديا جائے۔‘
مظاہروں میں رشدی اور برطانیہ كی مذمت كی گئی
انہوں نے كہا كہ كہتے ہیں كہ ’رشدی كو سر كا خطاب ان كی ادبی خدمات پر ديا گيا ہے، مگر دنيا جانتی ہے كے ان كی كتابیں غير معياری ہیں۔ انہوں نے كوئی خدمات نہیں كیں صرف ايك خدمت كی ہے كہ وہ مسلمان اور ان كے اكابرين كی تذليل كرنا ہے۔‘
’برطانیہ نے ان تمام لوگوں كی توہين كی ہے جنہیں اس سے پہلے سر كا خطاب ديا گيا تھا۔‘
پروفيسر غفور احمد كا كہنا تھا كہ برطانیہ كے لیے ايك ارب پچاس كروڑ عوام مسلمانوں سے دشمنی مول لينا كوئی اچھا سودا نہیں ہوگا۔
مولانا غفور حيدری كا كہنا تھا كہ جو پيغمبر اسلام كا منكر ہے وہ واجب القتل ہے۔ ’یہ ہر مسلمان كی رائے ہے اگر اعجاز الحق يا پنجاب اسمبلی كے سپيكر نے ايسا كہا ہے تو بلكل درست كہا ہے۔‘