پاكستان نے متاثرين بارش و سيلاب كيلئے عالمی امداد كی اپيل كردی

IQNA

پاكستان نے متاثرين بارش و سيلاب كيلئے عالمی امداد كی اپيل كردی

11:32 - July 02, 2007
خبر کا کوڈ: 1558784
بين الاقوامی گروپ :پاكستان نے متاثرينِ بارش و سيلاب كيلئے عالمی امدادكی اپيل كر دی، وزيراعظم شوكت عزيز نے غير سركاری تنظيموں، كثير الملكی تنظيموں، بين الاقوامی امدادی اداروں، نجی ڈونرز اور عالمی برادری كو دعوت دی ہے كہ وہ سندھ اور بلوچستان كے ساحلی علاقوں كے بارشوں اور سيلاب سے متاثرہ لوگوں كی بحالی كيلئے مدد دیں۔


ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی ايكنا كی رپورٹ كے مطابق جنگ نيوز نے كہا ہے كہ پاكستان نے متاثرينِ بارش و سيلاب كيلئے عالمی امدادكی اپيل كر دی، وزيراعظم شوكت عزيز نے غير سركاری تنظيموں، كثير الملكی تنظيموں، بين الاقوامی امدادی اداروں، نجی ڈونرز اور عالمی برادری كو دعوت دی ہے كہ وہ سندھ اور بلوچستان كے ساحلی علاقوں كے بارشوں اور سيلاب سے متاثرہ لوگوں كی بحالی كيلئے مدد دیں۔ بلوچستان اور سندھ كے متاثرہ علاقوں كے دو روزہ دورے كے اختتام پر اتوار كو یہاں صحافيوں سے بات چيت كرتے ہوئے وزيراعظم نے كہا كہ اس وقت سياست چمكانے كا كوئی فائدہ نہیں،مل جل كر كام كرنا ہونگے، تمام تر توجہ ريليف پر مركوز ہے،امداد كی فوری فراہمی كيلئے مواصلات كا نظام فوری طور پر بحال كيا جائے،انہوں نے مزيد كہا كہ حكومت بے گھر ہونے والے افراد كی مدد كرنے كيلئے حكمت عملی كے مطابق تمام تر كوششیں كر رہی ہے، نيشنل ڈيزاسٹر مينجمنٹ اتھارٹی تمام حكومتی اداروں كے ساتھ مل كر مربوط امدادی كوششیں كر رہی ہے۔ وزيراعظم نے كہا كہ سمندری طوفان اور بارشوں سے متاثرہ افراد كی امداد كيلئے مل جل كر اقدامات كرنے ہوں گے۔ اس معاملے میں سياست چمكانے كا كوئی فائدہ نہیں، ہم عوام كی خدمت كر رہے ہیں اور زيادہ سے زيادہ خدمات كریں گے۔ ہماری توجہ عوام كو ريليف دينے پر ہے، اس لئے كم سے كم دورے كرنے كی پاليسی پر عمل پيرا ہیں۔ نقصانات كا اندازہ لگانے كے بعد فنڈز كا فيصلہ كيا جائے گا۔وزير اعلیٰ بلوچستان جام يوسف، وفاقی وزير سماجی بہبود زبيدہ جلال، وزير مملكت پٹروليم و قدرتی وسائل نصير مينگل كے علاوہ صوبائی وزير سيد احسان شاہ اور اعلیٰ حكام بھی اس موقع موجود تھے۔ اس موقع پر وزيراعظم كو متاثرہ علاقے میں امدادی سرگرميوں كے بارے میں تفصيلی بريفنگ دی گئی۔ وزيراعظم نے كہا كہ اسلام آباد اور كراچی سے متاثرہ علاقوں میں ريليف كا سامان لے كر سی 130 پروازیں مسلسل آ رہی ہیں۔انہوں نے مزيد بتايا كہ اين جی اوز اور مختلف امدادی اداروں نے رابطہ كيا ہے، حكومت تمام تر مدد اور تعاون فراہم كر رہی ہے۔ اس سلسلے میں كوئی پابندی نہیں ہے۔ بارشوں كے آغاز سے ہی تمام اداروں نے مل كر امدادی سرگرمياں شروع كیں۔ وفاقی حكومت نے قدرتی آفات سے بچاؤ كی خاطر نيشنل ڈيزاسٹر مينجمنٹ اتھارٹی قائم كر ركھی ہے۔انہوں نے كہا كہ حكومت نے بارشوں اور سيلاب كے فوراً بعد ريليف كا سلسلہ شروع كيا اور درجنوں ہيلی كاپٹروں كے ذريعے متاثرين كيلئے امدادی ريليف كا سلسلہ شروع كيا اور درجنوں ہيلی كاپٹروں كے ذريعے متاثرين كيلئے امدادی سامان پہنچايا گيا ۔اب عارضی رہائش كيلئے خيمے، كمبل اور ادويات سميت ديگر سامان فراہم كيا جا رہا ہے۔ وفاقی اور صوبائی ادارے اور پاك فوج مل كر تمام متاثرين كو امدادی سامان فراہم كر رہے ہیں۔ شوكت عزيز نے كہا كہ بارشوں اور طوفان كے دوران ان كا وزير اعلیٰ بلوچستان جام محمد يوسف سے روانہ 6، 7 مرتبہ رابطہ رہتا تھا اور پَل پَل كی خبر ركھی جاتی تھی۔ انہوں نے بتايا كہ جيكب آباد كو امدادی سرگرميوں كا مركز بنايا جا رہا ہے، جہاں سے تمام متاثرہ علاقوں كو امدادی سامان كی ترسيل ہو گی۔ وزيراعظم نے اس موقع پر متاثرين میں امدادی سامان تقسيم بھی كيا۔ نيشنل ڈيزاسٹر مينجمنٹ اتھارٹی كے چيئرمين ميجر جنرل محمد فاروق نے وزيراعظم كو اتھارٹی كی امدادی سرگرميوں كے بارے میں آگاہ كيا انہوں نے كہا كہ اتھارٹی كے پيشگی خبر دار كرنے والے نظام كی بدولت بڑے نقصان سے بچاؤ ہو گيا۔ فرنٹيئر كور كے انسپكٹر جنرل سليم حيات نے امدادی آپريشن كے بارے میں وزيراعظم كو بتايا كہ بلوچستان كے 49 اضلاع میں 8 بری طرح متاثر ہوئے ہیں جبكہ 13 دیہات كے لوگ سيلاب میں گھر گئے تھے جنہیں نكال ليا گيا۔ انہوں نے كہا كہ بارشوں اور سيلاب سے تربت اور ملحقہ علاقوں كے دو لاكھ سے زائد افراد متاثر ہوئے، متاثرہ آبادی كی بحالی كيلئے پندرہ ارب روپے دركار ہوں گے۔وزيراعظم نے ميرانی ڈيم كے قريب مختصر قيام بھی كيا جہاں واپڈا حكام نے وزيراعظم كو ميرانی ڈيم كے بارے میں بريفنگ دی۔ انہیں بتايا گيا كہ اس ڈيم میں پانی ذخيرہ كرنے كی گنجائش 276 فٹ ہے جبكہ بارشوں كے دوران اس كی سطح 271.5 فٹ تك پہنچ گئی تھی جو اب كم ہو كر 249.7 فٹ رہ گئی ہے۔حكام نے كہا كہ اگر یہ ڈيم تعمير نہ ہوتا تو سيلاب سے نشيبی علاقوں میں بڑے پيمانے پر تباہی ہوتی۔ اس موقع پر وزيراعظم نے كہا كہ عالمی درجہ حرارت میں اضافے كے باعث حالات تبديل ہو رہے ہیں۔ ان چيلنجوں كو سامنے ركھتے ہوئے ڈيم كے ڈيزائن كے مطابق مستقبل میں اس طرح كی صورتحال سے بچنے كيلئے اقدامات كئے جائیں۔ وزيراعظم نے واپس جاتے ہوئے جھل مگسی، بولان اور سبی كے متاثرہ علاقوں كا بھی فضائی جائزہ ليا۔
Print Version
نظرات بینندگان
captcha