ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی ايكنا كے شعبہ مغربی آذربائيجان كی رپورٹ كے مطابق آذربائيجان میں شائع ہونے والے مجلہ ٫٫ دعوت ٬٬ كے صفحہ ۶ كو ادب اور ثقافت سے مخصوص كرتے ہوۓ لكھا ٬ كہ سلام پروردگار كا ايك نام ہے جس كے معانی یہ ہیں كہ ہم جو كچھ اپنے پروردگار سے حاصل كرتے ہیں وہ خير و لطف اور بركت ہے –
ہمارا سلام ہو اس پيغمبر پر جس نے دنيا كی صعوبتوں كو برداشت كر كے ہماری ہدايت كی -
دعوت نامی مجلہ میں لكھا ہے كہ اسلامی معاشرے میں ايك دوسرے سے ملاقات كے وقت سلام كریں جو انسان كے اخلاق و ادب كی نشانی ہے -
سلام كے ذريعہ محبت اور دوستی پيدا ہوتی ہے اور دوسری طرف انسان كی تواضع اور انكساری كا بھی اندازہ ہوتا ہے –
حديث میں وارد ہوا ہے كہ بخيل ترين انسان وہ ہے جو سلام كرنے میں بخل كرے امام صادق علیہ السلام نے فرمايا ہر ايك كو سلام كرنا انسان كے تواضع كی نشانی ہے
پيغمبر خدا نے فرمايا : جو كھيلنے والے مجسمہ بنانے والے اور مست افراد كو سلام نہ كرو –
امام رضا علیہ السلام نے فرمايا كہ جو امير و غريب كو سلام كرنے میں فرق پيدا كرے روز قيامت اس پر پروردگار عالم كا غضب ہو گا ﴿قصار الجمال ﴾
سلام كرنا مستحب ہے اور جواب دينا واجب ہے اور بہتر ہے سلام كا جواب سلام كرنے والے كو بہتر طريقہ سے ديا جاۓ –
142349