ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی ايكنا كے بلاگ گروپ سے نقل كيا ہے كہ پيغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم كی نگاہ میں جو حضرت فاطمہ كا مرتبہ تھا وہ كسی پر پوشيدہ نہیں ہے اور جس طرح پيغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صديقہ طاہرہ كا احترام كيا ہے ويسا احترام كسی كا نہیں كيا ٬ اور حضرت فاطمہ زھرء سلام اللہ علیھا نے پيغمبر ۖ كی حيات طيبہ میں اور ان كی وفات كے بعد جس طرح اپنے باب سے محبت كی ايسی محبت كسی سے نہیں كی –
ايسی محبت جو بیٹی اور باپ كے رشتہ سے بڑھ كر ايسی محبت جس میں جزيات بھی ہوں اور پدری محبت بھی ٬ درس اخلاق بھی ہو اور سياست بھی –
اسلام میں جتنے بھی كمالات تھے وہ پيغمبر اكرم ۖ كے ذريعہ سب حضرت فاطمہ كے سامنے مجسم ہو گۓ تھے -
بلاگ گروپ نے مزيد لكھا ہے كہ پيغمبر نے انہیں اپنے جسم كا ٹكراؤ قرار ديا ہے جب سفر پر جاتے تھے تو پہلے ان سے رخصت ہوتے تھے اور جب واپس ہوتے تو سب سے پہلے باپ كی زيارت كے لیے جاتی تھیں –
151434