ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی﴿ايكنا﴾:بلاگ گروپ نے اس مضمون كے مختلف عناوين جيسے اھميت كلام،گفتگو كے آداب،گفتگو سسنے كے آداب وغيرہ پر بحث كی ھے
انھوں نے اھميت كلام كے بارے میں لكھا ھے كہ قرآن حكيم خود كلام كی جنس سے ھے اور اپنا تعارف بيان كے ذريعہ كر رھا ھے اگرچہ بيان ايك وسيع اور عام مفھوم ھے اس كا اطلاق ھر اس چيز پر ھوتا ھے جو مقصود اور مراد كو واضح كرے چاھے وہ بات چيت ھو يا اشارہ،يا خط
انھوں نے مزيد لكھا كہ عادت كے اعتبار سے بات كرنا بہت آسان ھے ليكن اگر ھم اس پر غور كریں تو اندازہ ھوگا كہ یہ ايك سنجيدہ ترين اور ظريف ترين امر ھے۔
بلاگ گروپ نے زبان كی اھميت كے بارے میں كہا كہ یہ چھوٹا سا عضو كہ جس سے انسان بولتا ھے اس كے بارے میں لكھا ھے كہ سورہ رحمٰن كی آيت نمبر ا سے ۴ تك سے استفادہ ھوتا ھے كہ خلقت كے بعد بيان كی نعمت عظيم ترين نعمت ھے،ان آيات میں یہ اعلان ھوا ھے كہ اللہ نے قرآن كی تعليم دی،انسان كو خلق كيا اور اسے بيان سكھايا گويا یہ سمجھايا جا رھا ھے كہ انسان ھے اور اس كا بيان۔
۱۷۴۷۱۹