2 شوال سنہ 604 ہجری قمری كو موجودہ شام كے ايك علاقے حماہ میں مسلمان مورخ ،قاضی اور اديب ابن واصل كی ولادت ہوئی ۔انہوں نے ابتدائی تعليم اپنے والد سے حاصل كی جو بيت المقدس كے مدرسۂ ناصریہ میں مدرس تھے ۔ابن واصل بھی اپنے والد كے بعد اس مدرسے میں مدرس ہوئے ۔انہوں نے علم نجوم سے متعلق چند آلات اور رصد خانہ بنانے میں مصر كے رياضيدان تعاسيف كے ساتھ تعاون كيا اور 663 ہجری كے قريب اپنے شہر كے قاضی القضات مقرّر ہوئے ۔ابن واصل كی تاريخ كی تين مشہور كتابیں موجود ہیں جن میں انبياء كرام (ص) كے دور سے مولّف كے زمانے تك كے تمام حالات كا ذكر ہے ۔ " نظم الدرر فی الحوادث و السير " اور " مفرج الكروب فی اخبار بنی ايوب " ايوبيان كے تاريخی سلسلے پر مشتمل ايك گرانبہا منبع ہے ۔ابن واصل كا سنہ 697 ہجری میں انتقال ہوا ۔
2 شوال سنہ 604 ہجری كو مشہور محدث اور ماہر علوم قرآن ابوبكر نقاش كا انتقال ہوا ۔وہ اوائل جوانی میں ہی بغداد گئے اور اپنے دور كے معروف اساتذہ سے دينی علوم كی تعليم حاصل كی ۔اس كے بعد متعدد اسلامی ملكوں كا سفر كيا اور علم حديث و ديگر دينی علوم میں مہارت حاصل كی ۔ابوبكر نقاش ،اپنی حيات میں ہی قرائت قرآن اور احاديث نقل كرنے میں ايك خاص مقام ركھتے تھے ۔مشہور مسلمان مورخ اور كتاب الفہرست كے مولّف ابن نديم نے ابوبكر نقاش كی بہت سی كتابوں كا ذكر كيا ہے جس میں تفسير قرآن سے متعلق كتاب " شفاء الصدر " قابل ذكر ہے ۔