پيغمبر اسلامۖ نے مكہ كے نزديك ،شہر طاﺋف میں ايسے حالات میں اپنا تبليغی سفر كيا جب آنحضرت كے سب سے بڑۓ حامی اور مددگار حضرت ابو طالب نے تازہ اس دنيا سے رحلت كی تھی اور اسی وجہ سے قريش كے مشركين نے پيغمبر اسلام ۖ كو بہت زيادہ اذيتیں دينا شروع كردی تھیں-اس بنا پر اگر اھل طاﺋف اسلام قبول كرليتے تو یہ شہر ظلم و ستم كی چكی میں پسنے والے مسلمانوں كےلیے امن و امان كا گہوارہ بن جاتا ہے –ليكن طاﺋف میں قبيلہ ،ثقيف كے سردار نے نہ فقط وحدانيت خداوند اور حضرت محمدۖ كی رسالت پر ايمان نہیں لاۓ بلكہ ان كے اكسانے پر بعض نادان اور جاھل لوگوں نے پيغمبراكرمۖ كو مختلف اذيتیں دے كر زخمی كرديا-