فارسی ادب كے عظيم استاد اور شاعر شيخ مصلح الدين سعدی شيرازی كی وفات﴿٦۹۱ ھ ق﴾

IQNA

فارسی ادب كے عظيم استاد اور شاعر شيخ مصلح الدين سعدی شيرازی كی وفات﴿٦۹۱ ھ ق﴾

11:33 - January 07, 2008
خبر کا کوڈ: 1618333
فارسی نثر اور شعر كے عظيم استاد اور شاعر شيخ مصلح الدين سعدی شيرازی نے اپنے شہر شيراز میں دينی اور ادبی تعليم حاصل كرنے كے بعد جوانی میں بغداد كا رخ ك

فارسی نثر اور شعر كے عظيم استاد اور شاعر شيخ مصلح الدين سعدی شيرازی نے اپنے شہر شيراز میں دينی اور ادبی تعليم حاصل كرنے كے بعد جوانی میں بغداد كا رخ كيا انہوں نے وہاں كے مدرسہ نظامیہ میں اپنے دور كے رائج علوم كی تعليم حاصل كی-فارغ التحصيل ہونے كے بعد انہوں نے شام ٬فسلطين ٬حجاز روم اور دوسرے ممالك كے سفر كے دوران مختلف معاشروں سے آگاہی حاصل كی-سعدی نے ان سفروں كے دوران اپن ےتمام مشاہدات كو خوبصورت اور جاودانی اشعار میں پرو ديا اس كے بعد وہ شيراز واپس آ گۓ اور اس سياحت اور لوگوں سے آگاہی كے تيس سالہ تجربہ كو اپنی نصيحت آموز نظموں كی صورت میں تاليف كيا سعدی نے سن ٦۵۵ ھ ق كو نثر فارسی كی فصيح و بلءيغ كتاب گلستان كی تاليف كی جس میں فارسی اور عربی اشعار سے استفادہ كيا گيا ہے علاوہ ازين ديوان سعدی اور مجالس پنج گانہ بھی انہیں كی تاليفات میں سے ہیں شيراز میں سعدی كی قبر ساری دنيا سے فارسی ادب اور زبان سے محبت ركھنے والوں كی ميزبان ہے سعدی فردوسی اور حافظ كے ساتھ ساتھ ٬فارسی ادب اور زبان كے تين عظيم شعراء میں سے ہیں ان كے كلام میں عاشقانہ غزلیں انتہائی لطيف اور خوبصورت بيان اور فصيح ترين اور سادہ ترين الفاظ میں لطيف ترين معانی ذكر ہوۓ ہیں وہ حكمت موعظہ اور حكم اور امثال كو بيان كرنے میں فارسی زبان كے شاعروں میں سے كامياب ترين شاعر تھے-

نظرات بینندگان
captcha