ملا ھادی سبزواری ٬مرزا مہدی طبيب كے بیٹۓ ٬سبزوار كے متمول گھرانے سے تعلق ركھتے تھے وہ سن ۱۲۱۲ ھ ق كو پيدا ہوۓ –اپنے والد كی وفات كے بعد ٬بچپن میں وہ ملا حسين كی سرپرستی میں ابتدائی تعليم حاصل كرتے رہے اور انہوں نے حكمت اشراق كی تعليم حاصل كرنے كی خاطر اصفہان كی طرف ہجرت كی –ملا ہادی نے آخوند ملا اسماعيل اصفہانی ٬آخوند ملا علی نوری اور آقا محمد علی نجفی جيسے اساتذہ استفادہ كيا –وہ پانچ سال تك فقہ و اصول كی تعليم دينے میں مشعول رہے –پھر حج كے سفر كے بعد وہ سبزوار چلے گۓ اور فلسفہ كی تعليم دينے میں مصروف ہو گۓ – ان كی شہرت سبب بنی كہ دنيا كے مختلف علاقوں سے چشمہ فلسفہ كے پياسے سبزوار آ كر سيراب ہونے لگے –اس مایہ ناز شخصيت نے ثروتمند ہونے كے باوجود زہد اور قناعت كو ترك نہیں كيا-انہوں نے كسی قسم كی رياست حتی امام جماعت ہونے كو بھی قبول نہ كيا –حاج ملا ہادی سبزواری تيرھویں صدی ہجری كے مشہور ترين فلاسفہ میں سے ہیں اور متفكرين كے درميان بہت بلند مقام ركھتے تھے –اس بزرگوار كی تقريبا ۳٦ كتابیں اور رسالے ہمارے درميان موجود ہیں جن میں سے بعض كے نام یہ ہیں:اسرار الحكم ٬اصول دين ٬اسرا العبادہ٬الجبر و الاختيار٬اسفار ملا صدرا پر حاشیہ ٬ زبدة الاصول شيخ بھائی پر حاشیہ ٬غرر الفوائد ﴿منظومہ﴾ اور ہداية المسترشدين آخر كار اس عظيم عالم دين نے اپنے شہر میں ۷۸ سال كی عمر میں وفات پائی اور انہیں وہاں پر ہی سپرد خاك كر ديا گيا-