پہلا درس ،
دوسرا حصہ،
متقين كی صفات
٫٫ ھدی للمتقين الذين يومنون بالغيب و يقيمون الصلاة و مما رزقنا ھم ينفقون ٬٬ ﴿ بقرہ / ۳﴾
اس آيت كی تفسير بيان كرتے ہوۓ قائد انقلاب اسلامی نے فرمايا : پرھيز گار لوگوں كی چھ صفات ہیں اور ان چھ صفات كا ايك انسان میں جمع ہونا در حقيقت انسان كے اندر تقوی كے عناصر كو تشكيل ديتا ہے اور صحيح اور حقيقی تقوی انہی چھ صفات سے عبارت ہے اور انہیں چھ صفات سے انسان راہ كمال پر گامزن ہوتا ہے البتہ جس طرح ہم نے اس سے پہلے درس میں كہا تھا كہ تقوی انسان كے لیے تمام مراحل میں مدد گار ثابت ہوتا ہے ۔ يعنی جب آپ تقوی كے حامل ہوں گے تو پھر قرآن سے درس بھی حاصل كر سكتے ہیں اور ہدايت بھی اور جوں جوں تقوی كے مراحل بڑھیں گے قرآن فہمی میں اضافہ ہوتا جاۓ گا اگر كوئی شخص تقوی كے اعلی مراتب پر فائز ہو تو وہ قرآن كی ظرافتوں اور عميق نكات اور گہرا معانی تك بہتر رسائی حاصل كر سكتا ہے اور تقوی صرف قرآن فہمی كی ابتداء میں ہی ضروری نہیں بلكہ تمام مراحل میں ضروری ہے لہذا يوں نہیں ہے كہ اگر كوئی پاكيزگی كے ساتھ قرآن فہمی میں اترا تو پھر فورا بطن قرآن تك رسائی حاصل كر لے ، نہیں ايسا نہیں ہے بلكہ ہر ہر مرحلے میں جتنا جتنا پرھيز گاری میں قدم آگے بڑھے گا اتنی ہی قرآن فہمی میں ترقی عنايت ہوگی ۔ اب یہ چھ صفات تمہيد ہیں اس مرحلہ كے لیے جس سے انسان ايك متوسط حد تك متقی ہو سكتا ہے اور اس كے بعد بلند مقامات كا سلسلہ شروع ہوتا ہے اور ان چھ صفات میں سے پہلی صفت ٫٫ الذين يومنون بالغيب ٬٬ ہے ۔
جاری ہے۔۔۔۔