ايران كی قرآنی خبر رساں ايجينسی ﴿ايكنا ﴾ كی رپورٹ كے مطابق متحدہ مجلس عمل كے مركزی نائب صدر و اسلامی تحريك كے سربراہ علامہ سيد ساجد علی نقوی نے كہا ہے كہ بم دھماكے ملك كی بگڑی ہوئی صورت حال كا شاخسانہ ہے ، پشاور بم دھماكہ فرقہ وارانہ اختلافات كا نتيجہ نہیں ۔ ملك حكمرانوں كی نا كام پاليسيوں كی وجہ سے بحرانوں كا شكار ہے ۔ بحرانوں كے خاتمے كے لیے انتخابات وقت پر ہونا ضروری ہے ، ايم ايم اے انتخابات میں بھر پور حصہ لے گی ۔ انتخابات كے حوالے سے جو اعداد و شمار سامنے آ رہے ہیں وہ مايوس كن ہیں ۔ ملكی سياست پر عام انتخابات كے دور رس اثرات مرتب ہوں گے ، انتخابات كو شفاف اور غير جانبدار بنانے كے تقاضے پورے كۓ جائیں ۔ ان خيالات كا اظہار انہوں نے گذشتہ روزپاكستانی اخبار ٫٫خبریں ،، كو انٹرويو ديتے ہوۓ كيا ۔ انہوں نے كہا كہ ملك میں مہنگائی ، لا قانونيت اور امن و امان كی خرابی كی ذمہ دار حكومت ہے ، امام بارگاہ پشاور میں بم دھماكہ كی ہم شديد مذمت كرتے ہیں اور اس افسوسناك حادثے كے شھداء كے لواحقين سے اظہار تعزيت كرتے ہوۓ زخميوں كی صحت يابی كی دعا كرتے ہیں ۔ انہوں نے كہا كہ یہ بم دھماكے ملك كی بگڑی ہوئی صورت حال كے باعث ہیں ، اس دھماكے كے بارے میں ہم يقين سے كہہ سكتے ہیں كہ یہ سانحہ فرقہ وارانہ اختلافات كاشاخسانہ نہیں ہے لہذا قومی و ملی يكجہتی كی موجود فضا كو بر قرار ركھنا منافرت اور اشتغال انگيزی سے اجتناب كرنا تمام مكاتب فكر اور مسالك كے پيرو كاروں كی ذمہ داری ہے ۔ انہوں نے كہا كہ تمام مسالك كے عوام وسعت نظری اور برداشت كا مظاہرہ كرتے ہوۓ باہمی تعاون كو مٶثر بنائیں ۔ اس كے ساتھ ساتھ حكومت ايسے اقدامات سے گريز كرے جس سے عوام میں خوف و ہراس پيدا ہو ۔ انہوں نے كہا كہ سياستدانوں اور جماعتوں میں انتخابات كے حوالے سے تضاد ہیں اور يقين كے ساتھ كچھ بھی نہیں كہا جا سكتا كہ انتخابات مقررہ وقت پر ہوتے ہیں كہ نہیں تا ہم انتخابات ہوۓ تو ايم ايم اے اس میں بھر پور شركت كرے گی ۔ حكومت كا فرض ہے كہ سياسی جماعتوں كے تحفظات كو دور كر كے فری اينڈ فيئر انتخابات كے تقاضے پورے كۓ جائیں ۔ انتخابات میں دھاندلی كی گئی تو ملك مزيد بحرانوں كا شكار ہو جاۓ گا اور خدا نخواستہ ملك ٹوٹنے كا خطرہ بھی بڑھ جاۓ گا ۔ انہوں نے كہا كہ حكمرانوں كی غلط پاليسيوں كا نتيجہ ہے كہ آج عوام آٹا ، بجلی ، گيس اور پانی جيسی بنيادی چيزوں سے محروم ہیں اور قوم فاقوں پر مجبور ہے اس لیے اب ان لوگوں كا جن كی وجہ سے قوم ان بحرانوں كا شكار ہے ان كا اقتدار میں آنا ممكن نہیں اور فتح انہی كی ہو گی جو عوام كی فلاح اور ملكی بقاء كے لیے جامع پروگرام ركھتے ہیں ۔ انہوں نے كہا كہ ايم ايم اے كو قائم ركھنا ضروری ہے ہم آج بھی انہی حالات سے گزر رہے ہیں جو امام حسين علیہ السلام كو در پيش تھے كيونكہ ہم ديكھ رہے ہیں كہ آج بھی اسلام كا مذاق اڑا كر عملا دين سے انحراف كيا جا رہا ہے ، آج بھی اسلام كی نمائندگی اور اسلام كی حفاظت كرنے والوں پر ظلم كی انتہاء كی جا رہی ہے ۔ آئينی مذھبی ، شہری ، حقوق سلب كیے جا رہے ہیں ، آزاديوں پر قدغن لگائی جا رہی ہے ۔ دہشت گردی كا بازار گرم ہے ، دنيا كے مختلف حصوں بالخصوص مسلمان ممالك اس كی زد میں ہیں ۔ انہوں نے كہا كہ كہیں شيعہ سنی تفريق پيدا كر كے لسانی اور علاقائی عصبيتوں كی آڑ میں اور كہیں خود كش حملوں اور بم دھماكوں كی صورت میں مسلمانوں كے اندر انتشار پيدا كيا جا رہا ہے ۔