{ بين الاقوامی قرآنی خبر رساں ايجنسی ﴿﴿ ايكنا ﴾﴾ } كی ڈھاكہ سے رپورٹ كے مطابق امام حسين علیہ السلام كے قيام كو خراج عقيدت پيش كرنے كے لیے بنگلہ ديش میں ايرانی كلچرل سنٹر نے اس علمی نشست كا اہتمام كيا تھا جس میں ڈاكٹر ہاشمی ، حجة الاسلام سيد ابراہيم خليل رضوی ، پروفيسر سراج الحق ، ڈاكٹر شاہ كوثر مصطفی ، وكيل بدر الدجی اور ڈاكٹر محمد ابراہيم نے خطاب كيا ۔
مذكورہ نشست میں مقررين نے اپنی تقارير میں كہا كہ اگرچہ بنگالی مسلمان مذھبی اعتبار سے حنفی سنی ہیں ليكن فكری اور اعتقادی اعتبار سے وہ شيعيان حيدر كرار سے بہت قريب ہیں اور اسی حوالے سے لكھی گئی كتاب ٫٫ درياۓ غم ٬٬ میں جو واقعات مكتوب ہیں ان سے بنگالی لوگوں كی اہل بيت علیھم السلام سے عقيدت كا اندازہ لگايا جا سكتا ہے ۔ انہوں نے كہا كہ اس دور میں جب امام حسين علیہ السلام نے قيام كيا كوئی شخص بنی امیہ كی حكومت كے خلاف بولنے كی جرات نہیں كرتا تھا ليكن امام حسين علیہ السلام نے اپنے خطبوں اور تقارير میں مزيد انحرافات كو كھل كر بيان كيا اور آپ علیہ السلام ، رسول اكرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم كی اس حديث پر ايمان و ايقان ركھتے تھے كہ حسن اور حسين علیھما السلام جوانان جنت كے سردار ہیں ٬٬ لہذا ان كا راستہ جنت پر ہی جا كر ختم ہوتا تھا ۔
اس نشست كے ايك مقرر ڈاكٹر محبوب الرحمن نے كہا كہ میں یہ تجوير پيش كرتا ہوں كہ واقعہ كربلا پر مستند كتاب بنگالی زبان میں تحرير كی جاۓ كيونكہ اس تاريخی واقعہ پر بنگالی زبان میں كوئی كتاب موجود نہیں ہے ۔
215639