۔
{ بين الاقوامی قرآنی خبر رساں ايجنسی ﴿﴿ ايكنا ﴾﴾ } كی رپورٹ كے مطابق guardian – couk گارڈين اخبار نے لكھا ہے كہ ڈنمارك كے باد شاہی كتب خانے كے ترجمان ٫٫ جیٹ كيجر گارڈ ٬٬ نے كہا ہے كہ ان خاكوں كی خريداری كا مقصد جنجال بپا كرنا نہیں ہے بلكہ اس كتب خانے كے ذمہ دار افراد چاہتے ہیں كہ انہیں تاريخی سند كے اعتبار سے محفوظ كر لیں تا كہ آئندہ نسلوں تك یہ آثار منتقل ہو سكیں ۔
انہوں نے كہا كہ ان خاكوں كو محفوظ كرنے كے لیے بادشاہی كتب خانے كا انتخاب اس لیے عمل میں آيا ہے كيونكہ یہ كتب خانے تمام سہوليات سے ليس ہے ۔
اس كے بر عكس ڈنمارك كے ذرائع ابلاغ ميوزيم كے سربراہ ٫٫ روين نيلسن ٬٬ نے كہا ہے كہ اس ميوزيم كے عہدہ داروں كی خواہش ہے كہ پيغمبر اكرم ﴿ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ﴾ كے خلاف بتاۓ جانے والے خاكوں كو عام لوگوں كی آشنائی كے لیے نمائش كے طور پر ركھا جاۓ ۔
217897