پيغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور حضرت امام صادق كی ولادت با سعادت

IQNA

پيغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور حضرت امام صادق كی ولادت با سعادت

16:33 - March 29, 2008
خبر کا کوڈ: 1639265
ہم اپنے تمام برادران اسلام بلكہ پوری دنيائے بشريت كو پيغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور حضرت امام صادق كی ولادت با سعادت كے موقع پر مبارك باد پيش كرتے ہیں
كيونكہ تمام مذاہب میں ان كے آنے كی بشارت دی گئی ہے اور ان پر ہی خدا كی نبوت الہی اور پيغام رسانی كا اختتام ہواہے۔ سبھی كو دور جہالت سے رہائی اور بشريت كی فلاح و نجابت كی فكر اور آرزو تھی اور ہر ايك ظلم و ستم كی برائيوں سے آزادی اور آدميت كے كمال و ارتقاء كم متمنی اور خواہشمند تھا ۔ امن و سلامتی سے معمور دنيا كی تعمير كے لئے خدا كے آخری مبشر و نذيركی دنيا راہ تك رہی تھی اور وہ نور ہدايت سترہ ربيع الاول سن تيس عام الفيل كو آمنہ كے گھر میں آگيا ۔ چنانچہ نبی اكرم كی مادر گرامی جناب آمنہ كی زبانی روايت ہے كہ " جب ميرا بیٹا دنيا میں آيا میں نے ايك غيبی آواز سنی ، منادی كہہ رہاتھا : مشرق سے مغرب تك گھوم كر محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم كا مثل تلاش كرو ، ان كے جيسا كون ہوسكتاہے ، تمام انبياء كے صفات ہم نے ان كو عطا كردئے ہیں ، آدم(ع) كی طرح صفا و پاكيزگی ، نوح(ع) كی طرح نرمی و سادگی، ابراہيم علیہ السلام كی طرح حلت و محبت ، اسمعيل (‏ع) كی طرح رضا و خوشنودی ، يوسف (ع) كی طرح حسن و زيبائی اور عيسی علیہ السلام كی طرح كرامت و بزرگواری ، سب كچھ ان میں موجود ہے ۔ "

ہم اسی نبی كے پيرو ، اپنے دين اسلام پر افتخار كرنے والے مسلمان ہیں اورخوشی كے ان ايام میں آپ تمام سامعين محترم كی خدمت میں رشتۂ انسانيت كی بنياد پر محبت و دوستی كا پيغام ديتے ہیں ۔ یہ ايام دنيا میں اس عظيم انسان كے ورود مسعود كے ايام ہیں كہ جس كا نام ہی محمّد ہے ، جس كی خود خدا نے بے پناہ مدح كی ہے اور ہم جتنی بھی تعريف كریں كم ہے ۔ خدا كا یہ وہ رسول ہے كہ جس كو خدا نے تمام اخلاق حميدہ سے مخصوص كرديا ، جو بندوں كے حق میں اس قدر لطيف و مہربان تھا كہ ايك ہی نگاہ میں دلوں سے كينہ و دشمنی كے سياہ بادل چھٹ جاتے تھے ۔ جس نے ہر ايك كی طرف محبت و دوستی كا ہاتھ بڑھايا اور ايك دنيا كو اپنا گرويدہ بناليا ۔ تاريخ كے اوراق الٹئے تو آپ كو نظر آئے گا كہ ايك یہودی عورت كينہ و نفرت سے چور بڑھاپے كی ضد كے ساتھ جب بھی آپ كو گھر كے قريب سے گزرتے ديكھتی چھت سے آپ كے سر پر كوڑا كركٹ پھينك ديا كرتی تھی ، نہ آپ اس پر غصہ كرتے نہ بگڑتے بولتے اور نہ ہی اپنی راہ ترك كرتے تھے ، گويا یہ روزانہ كا معمول بن چكاتھا آپ یہودن كے گھر كے قريب سے گزرتے اور وہ آپ پر كوڑا پھينك ديتی ليكن ايك دن جب آپ ادھر سے گزرتے تو كسی نے كوڑا نہیں پھينكا ۔ آپ كو حيرت ہوئی اور آپ نے لوگوں سے پوچھا " آج ميری مہربان كا كچھ پتہ نہیں ہے ؟" معلوم ہوا كہ وہ مريض ہے یہ سنتے ہی آپ نے بوڑھی یہودن كےگھر دق الباب كيا ، دروازہ كھلا اور بڑھيا نے آپ كو سامنے كھڑا ديكھ كر گھبرا كے پوچھا ، تم اب آئے ہو مجھ سے انتقام لينےكہ جب میں مری‍ض ہوں ؟ آپ نے اس كے جواب میں مسكراتے ہوئے شفقت و ہمدردی سے معمور لہجے میں فرمايا : " نہیں ، میں تو یہ سنكر كہ تم مريض ہو تمہاری عيادت كے لئے آياہوں " یہ تھا ہمارے نبی كا حسن اخلاق اسی لئے خدا نے اپنے اس نبی كے لئے فرماياہے :

" ہم نے آپ كو خلق عظيم پر فائز كياہے "

آج پھر دنيا ئے بشريت ظلم و نا انصافی كے گہرے زخموں سے چور كراہ رہی ہے ، اگرچہ اس نے بڑی تيزی سے علم و دانش كی عظيم راہیں عبور كرلی ہیں ليكن اب بھی آدميت اخلاق اور انسانی وجدان كے بيچ راہ میں حيران و سرگردان كھڑی ہے ۔ اسے ايك ايسے" درخشاں نور " كی ضرورت ہے جو اس كی حيات كو گرمی اور تازگی عطا كردے نور محمدی كا آخری جلوہ كو ايك دنيا سراپا انتظار ہے ۔ خاص طور پر ان دنوں ہر طرف " محمّد(ص) كی آمد " كا نور پھيلا ہوا ہے ۔ يقينا" ان كی معرفت اور عشق و اطاعت دلوں سے دنيوی آلودگيوں كی سياہی دور كردے گی اور محبت و سچائی كے تحفے نچھاور كرے گی ۔ اگر تمام انسان ان كی رہنمائيوں كے پرتو میں زندگی گزارنے كا عہد كریں تو نجات و رستگاری قدم چومے گی ۔ خداوند عالم نے بھی اس طرح كے انسانوں پر درود بھيجاہے اپنے پيغمبر (ص) كو خطاب كركے وہ فرما چكاہے :

" جب آپ كے پاس صاحبان ايمان آئیں تو ان سے كہئے : تم پر سلام ہو ، تمہارے پروردگار نے اپنے اوپر تمہارے حق میں رحمت لازم كرلی ہے "

اس لئے آج پوری كائنات خدا كے پيغمبر محمد مصطفی صلی اللہ و علیہ و آلہ و سلم كا جشن ولادت پورے جوش و خروش كے ساتھ منارہی ہے گويا زمين و آسمان ، انسان اور فرشتے سب كے سب اپنی اپنی زبان میں آپ كی مدح سرائی میں مشغول ہیں جيسا كہ خود رسول اسلام (ص) نے ايك سائل كے سوال كے جواب میں كہاتھا :

مجھ كو محمد كہتے ہیں كيونكہ اہل زمين ميری نعت خوانی میں مشغول رہتے ہیں ۔مجھے احمد كہتے ہیں كيونكہ آسمان والے ميرا قصيدہ پڑھتے ہیں ۔ ميری كنيت ابوالقاسم ہے كيونكہ خداوند عالم نے قيامت میں جنت اور جہنم كی تقسيم كے لئے ميری محبت كو معيار قراردياہے ۔ پس جو مجھ پر ايمان لائے گا خدا اس كو بہشت میں جگہ عطا كرے گا ۔
irib.ir
نظرات بینندگان
captcha