قائد انقلاب اسلامی كے درس تفسير میں،قرآن كريم میں "كفر اور شرك كے درميان فرق" پر گفتگو

IQNA

قائد انقلاب اسلامی كے درس تفسير میں،قرآن كريم میں "كفر اور شرك كے درميان فرق" پر گفتگو

16:19 - April 12, 2008
خبر کا کوڈ: 1642330
مترجم:منتظر مہدی ترتيب و پيشكش: ادريس احمد علوی آيت شريفہ ''ان الذين كفروا سواء علیھم ءأنذرتھم أم لم تنذرھم لا يؤمنون'' كے ذيل میں پيش آنے والا دوسرا سوال مندرجہ ذيل ہے: سوال: قرآن كريم میں كفر اور شرك كے درميان كيا فرق ہے؟
جواب:شرك ايك مسلك اور عقيدہ كا نام ھے، يعنی دو خداؤں يا كئی خداؤں پر اعتقاد ركھنا، لہذا شرك ايك دين،آئين اور ايك اعتقاد كا نام ہے۔ مثال كے طور پر تين خداوں كے قائل البتہ بعض كہتے ہیں كہ زرتشتی موحد تھے۔ ليكن بہر حال تاريخ كے ايك دور میں وہ دو خداوں يا كئی خداوں كے قائل رھے ھیں كہ جس طرح اس دور میں ھندوستان اور آفريقہ كے بعض پسماندہ معاشروں كے پرانے قبيلوں میں اس كا اعتقاد ركھا جاتا ہے۔ ہم نے ھندوستان میں متعدد بت خانے ديكھے ہیں۔ ايك بت خانہ میں مختلف شكلوں كے متعدد خدا موجود ہیں۔ يا مثلاً يونان اور قديم روم كے افسانوی خدا، خدائے عشق ،خدائے طوفان، خدائے بارش، خدائے آتش كہ ان كے عجيب و غريب افسانے مشھور ہیں۔ ميلاد سے پہلے سلف نامی قديمی يونانی نمائش نامہ نويس نے ان خداوں اور ان كے درميان ہونے والی جنگوں كے بارے میں تحرير كياہے۔ یہ ايك مسلك اور آئين ہے۔ يعنی ہر شرك آلود دين ايك مسلك اور آئين ہے۔ ليكن كفر كا معنی ان سب سے وسيع تر ہے، يعنی ممكن ہے كہ كافر مشرك ہو اور یہ بھی ممكن ہے كہ وہ مادہ پرستوں، ملحدوں اور دھريوں وغيرہ كی طرح بالكل خدا كا اعتقاد بھی نھ ركھتا ہوليكن شرك ايك خاص آئين كو كہتے ہیں جيسے دو خداوں يا تين خداوں كا اعتقاد ركھنا۔
نظرات بینندگان
captcha