جواب:یہ ايك اچھا سوال ہے اور اگر اس بارے میں سوال نہ بھی ہوتا تو میں كچھ مدت كے بعد ايك مناسبت كے تحت اس بارے میں گفتگو كرتا۔ قرآن كريم میں اس كائنات میں رونما ہونے والے بہت سے واقعات اور حادثات كی ايك لحاظ سے خدا كی طرف نسبت دی گئی ہے۔ مثال كے طور پر آسمان میں پرواز كرنے والے پرندوں كے بارے میں فرماتا ہے: مايمسكھن الاّ اللہ ﴿نحل/۷۹ ﴾ اللہ كے علاوہ انھیں كوئی روكنے والا اور سنبھالنے والا نہیں ہے۔ حالانكہ آپ جانتے ہیں كہ مادی قانون كے تحت، ان كے پروں ،مخصوص وزن اور ہوا كے دباؤ نے انہیں آسمان میں سنبھالا ہوا ہے۔ يا فرماتا ہے: واللہ انزل من السماء ماءً﴿نحل ۶۵ ﴾ ۔ اور اللہ ہی نے آسمان سے پانی برسايا ہے۔ حالانكہ بارش ايك طبيعی ﴿مادی﴾ سبب كے تحت برستی ہے۔ اور گھنے بادلوں اور بارش كے دوسرے عوامل سے نازل ہوتی ہے۔ اسی طرح دوسرے واقعات و حادثات اور یہی صحيح معنی ہے چونكہ خداوند طبيعی قوانين كا حريف اور مد مقابل نہیں ہے تاكہ آپ كہیں كہ خدا نے یہ كام كيا تو اس كا یہ معنی ہو كہ طبيعی قانون نے یہ كام نہیں كيا، خدا طبيعی قوانين كے عرض میں نہیں ۔ خدا طبيعی قوانين كے طول میں ہے اور طبيعی قوانين كو بھی خداوند متعال نے ايجاد كيا ہے۔ اور خداوند متعال نے ہی بادلوں ، ہواوں،اور پرندوں كے پروں وغيرہ كو یہ خصوصيت عطا كی ہے۔ خدا ايسا خالق نہیں ہے كہ خلق كر كے ايك كونے میں بیٹھ گيا ہو۔ جيسے كہ گھڑی كا الارم لگا كر اسے الماری میں ركھ كر آپ وہاں سے ہٹ جائیں تو گھڑی اپنے مقررہ وقت پر بولے گی ۔ خدا ايسا نہیں ہے، بلكہ خداوند متعال كا ارادہ ہر لمحہ اور لمحات میں موجودات كی تربيت میں اثر انداز ہے اوراس كائنات میں واقع ہونے والے چھوٹے وبڑے تمام واقعات طبيعی قوانين كے مطابق اور ارادہ الہی كے تحت ہیں اور خداوند كريم نے ہی اس قانون كو بتايا ہے اور خدا نے ہی اس شے اور جسم كو یہ خاصيت عطاكی ہے۔ آپ بھی جو كام انجام ديتے ہیں آخر كار وہ خدا سے وابستہ ہے ﴿قل كل من عنداللہ﴾ ھر چيز خدا كی جانب سے ہے۔ يعنی خداوند متعال نے آپ كو ارادہ دياہے اور پھر آپ انتخاب كرتے ہیں۔ خدا نے آپ كو عقل عطا كی ہے كہ جس كے ذريعے آپ اشياء كو پركھتے ہیں۔ اور اسی نے یہ شہوت بھی آپ كو دی ہے كہ جس كی بنا پر آپ خطا انجام ديتے ہیں۔ بنابراين ان سب اشياء كو خدا كی طرف نسبت كی جا سكتی ہے۔ البتہ یہ موضوع بہت وسيع ہے۔ اور اگر زندگی رہی اور تفسير كے درس كو جاری ركھ سكے اور ان آيات كے بارے میں بحث شروع كی كہ جن میں خدا كی طرف نسبت دی گئی ہے اور كچھ آيات میں فرماتا ہے:اچھا اور نيك كام خدا سے وابستہ ہے اور برا كام تم سے متعلق ہے۔ اگر وہا ں پر پھنچے تو موضوع كی ظرافت پر توجہ ركھتے ہوئے واضح كریں گے كہ خداوند متعال كا دلوں پر مہر لگانا كيسے انجام پاتا ہے؟ يعنی وہ اپنے اختيار سے برے كام كرتے تھے كہ اس كام كا طبيعی اور قدرتی طور پر نتيجہ یہ نكلتا ہے كہ ان كے دلوں پر مہر لگ جائے گی۔ یہ ايك طبيعی قانون ہے كس كی ايجاد ہے؟ یہ خدا كا رد عمل ہے اور منافقين كے بارے میں فرماتا ہے: يخادعون اللہ والّذين امنوا وما يخدعون الاانفسھم و ما يشعرون۔﴿بقرہ /۹ ﴾
یہ خدا اور صاحبان ايمان كو دھوكہ دينا چاہتے ہیں حالانكہ اپنے ہی كو دھوكہ دے رہے ہیں اور سمجھتے بھی نہیں ہیں۔ پس بنا براين زبان قرآن ، طبيعی قوانين سے صادر ہونے والے افعال كی نسبت بھی ،خدا كی طرف ديتی ہے كيونكہ یہ افعال اس كے ارادہ سے متحقق ہوتے ہیں ۔ اور جس نے ان افعال كے ابتدائی مراحل كو طے كيا ہے اس كے لیے یہ عذاب خدا كے عنوان سے ہے۔