ايران كی بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی ''ايكنا''نےصوت العراق سائٹ كے حوالے سے رپورٹ دی ہے كہ سيد صدرالدين قپانچی نے ۱۷ اپريل۲۰۰۸ ء كو عراق كے بابل ڈويژن كے پيش نمازوں سے ملاقات كے دوران كہا كہ عراق میں دينی مرجع اور شيعہ تحريكوں نےسماجی، سياسی اور ثقافتی ميدانوں میں فعال كردار ادا كيا ہے۔ انھوں نے مزيد كہا كہ گزشتہ دور میں دينی مراجع اور شيعہ جماعتیں بعث پارٹی كے دباؤ كی وجہ سے سياسی اور اجتماعی ميدانوں میں اپناكردار ادا نہ كر سكیں۔ جناب سيد صدرالدين قپانچی نے اپنی گفتگو میں اس بات پر زور ديا كہ علم و دانش كو دوسرے موضوعات پر ترجيح دينی چاہیے اور مبلغين اور پيش نماز حضرات كو مفيد علمی مسائل پر گفتگوكرنا چاہیے كریں۔ انھوں نے كہا كہ صحيح انداز خطابت ہی مسلمانوں كی كاميابی اور اسلام كے پھيلنے كا ذريعہ ہے اور اگر دينی مبلغين درست انداز خطابت اپنائیں تو كوئی بھی ان پر غلبہ حاصل نہیں كر سكتا۔
241327