ايران كی بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی '' ايكنا '' نے '' المسلم '' سائٹ كے حوالے سے رپورٹ دی ہے كہ امريكہ كے فوجی افسر '' بيلی بانكر '' نے عراقی پوليس كی طرف سے اس توھين آميز اقدام كی وضاحت طلب كرنے پر صرف اس اقدام كی تحقيقات كا حكم دينےپر اكتفا كيا ہے۔ اس توھين آميز اقدام پر عراق كے وزير اعظم نوری المالكی كی خاموشی كو عراق كے مسلمان علماء نے تنقيد كا نشانہ بنايا ہے۔ مخفی نہ رہے كہ قرآن مجيد كی یہ بے حرمتی، قرآن مجيد اور مسلمانوں سے امريكيوں كی دشمنی كی واضح دليل ہے اور اسی دشمنی كو زندان ابوغريب میں مسلمان قيديوں سے ناروا سلوك سے ملاحظہ كيا جا سكتا ہے۔ ياد رہے كہ ۱۲ مئی ۲۰۰۸ء كو عراق كے شہر رضوانیہ میں تين امريكی فوجيوں نے قرآن مجيد كو گوليوں كا نشانہ بنايا تھا اور اس پر توھين آميز كلمات لكھے تھے۔
251566