بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا'' نے بی بی سی كے حوالے سے رپورٹ دی ہے كہ ۸جولائی ۲۰۰۸ء كو احسان اوغلو نےالجزيرہ ٹی وی كو انٹرويو ديتے ہوئے كہا كہ " oic" عراق میں امن وامان كی بگڑی ہوئی صورت حال پر پريشان ہے اور ہميشہ ملت عراق كے خدمت اوروہاں پر امن وامان كے قيام كے لیے اپنا كردار اداكرنے كے لیے آمادہ ہے۔ انھوں نے كہا كہ عراق میں اس شعبے كی تاسيس دو ماہ پہلے ہونا تھی ليكن بعض قانونی مشكلات كی وجہ سے اس میں تاخير ہو گئی۔ ياد رہے كہ كچھ عرصہ پہلے سوڈانی سفارت كار جناب " حامد التنی " كا عراق میں "oic" كے نمائندے كے طورپرانتخاب عمل میں آيا تھا۔
269877