بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی" ايكنا'' نے مصر كے روزنامہ " الاخبار" كے حوالے سے رپورٹ دی ہے كہ ۴ اگست ۲۰۰۸ء كو الازہر يونيورسٹی میں غير ملكی زبانوں اور تراجم كے استاد " احمد زكی حماد" نے مصر كے شہر اسكندریہ میں قرآن مجيد كے خطی نسخوں كی لائيبريری میں " ترجمہ معانی قرآن" كے موضوع پر خطاب كرتے ہوئے كہا كہ جب رسول اكرم ﴿ص﴾ كے اصحاب نے قريش كی اذيتوں سے تنگ آ كر حبشہ كی طرف ہجرت كی تو حبشہ كے بادشاہ نجاشی كے سامنے جعفر بن ابی طالب ﴿ع﴾ نے قرآن مجيد كی آيات پڑھیں اور ان كا ترجمہ بھی بيان كيا۔ الازہر يونيورسٹی كے پروفيسر نےاپنی گفتگو كے اختتام پر كہا كہ مسلمانوں نے قرآن مجيد كےترجمے كا اقدام بہت دير سے كيا ہے اور مسلمانوں كی طرف سے قرآن مجيد كا پہلا ترجمہ ۱۹۰۵ء میں كيا گيا ہے۔
278241