بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی " ايكنا'' نے " اسلام آن لائن" سائٹ كے حوالے سے رپورٹ دی ہے كہ آكسفورڈ شہر كے مسلمانوں نے ۲۰۰۳ء میں ايك انگريز تاجر سے زمين كرایہ پر لے كرخواتين كا اسلامی مدرسہ قائم كيا تھا۔ اب انگريز تاجر نے مسلمانوں كو كہا ہے كہ ماہ مبارك رمضان كی پہلی تاريخ تك ۴ لاكھ امريكی ڈالر زمين كی قيمت ادا كریں ورنہ میں " اقراء" اسلامی مدرسے كو بند كر دوں گا۔ جبكہ آكسفورڈ كے مسلمانوں نے اس زمين كو خريدنے كے لیے جو رقم جمع كی ہے وہ اس سے بہت كم ہے۔ اس اسلامی مدرسے میں ۱۴۰ مسلمان طالبات تعليم حاصل كر رہی ہیں جس میں دنياوی تعليم كے علاوہ جديد طرز پر اسلامی تعليم كی تدريس كی جاتی ہے۔ اس مدرسے كی پرنسپل ''حجت الرمزی" نے كہا ہے كہ اگر یہ مدرسہ بند ہو جاتا ہے تو مسلمان طالبات كا اس شہر میں اپنی تعليم كو جاری ركھنا بہت مشكل ہو جائے گا اور ممكن ہے كہ وہ تعليم كو جاری نہ ركھ سكیں۔ انھوں نے مزيد كہا كہ ہم نے آكسفورڈ شہر كی ضلع كونسل سے بھی مالی امداد كی درخواست كی ہے ليكن اس كی طرف سے اب تك كوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
281300