بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" نے روزنامہ "خليج ٹائمز " كے سے نقل كيا ہے كہ ڈاكٹر " النجار" نے ۵ ستمبر بروز جمعہ كو اپنی تقريرمیں اس بات پر زور ديا كہ دانشوروں كے ذريعے اس دور میں كشف ہونے والی سائنسی معلومات ۱۴ سو سال پہلے قرآن كريم میں ان كی طرف اشارہ كيا گيا ہے۔ زغلول نے قرآن كے سائنسی اعجاز كی طرف اشارہ كرتے ہوئے كہا كہ جديد سائنس اس بات كی نشاندہی كرتی ہے كہ قيامت كے بارے میں آيات قرآن مكمل طور پر سائنسی قوانين كے مطابق ہیں، ان معلومات كی بنا پر ہر سال چاند ۳ سے ۴ سينٹی میٹر زمين سے دور ہوتا ہے اور یہ فاصلہ اتنا زيادہ ہو جائے گا كہ زمين كی كشش اسے اپنے طرف جزب نہیں كرے گی اور چاند ، سورج كے نزديك ہوتا جا رہا ہے یہاں تك كہ اتنا نزديك ہو جائے گا كہ تباہ ہو جائے گا۔ اسی طرح ستاروں كی شخصی زندگی ہے اور اس زندگی كے بعد وہ مكمل طور پر تاريك ہو جاتے ہیں جب سب ستارے تاريك ہو جائیں گے تو دنيا كا خاتمہ ہو جائے گا اور یہ وہی چيز ہے جن كی طرف آيات قرآن اشارہ كرتی ہیں۔
290955