بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی " ايكنا" كے نامہ نگار كی رپورٹ كے مطابق ، الجزائر كے محقق ، قرائت قرآن كے استاد اور حافظ قرآن " مصطفی اكرور" تجويد و تلاوت كے استاد، عراق كے قومی قاری " محمد سعيد النعيمی" عراق كے قرآنی روزنامہ " قطوف" اور قرآنی مجلے " والقلم " كے چيف ایڈیڑر"محمد رضا الشريفی" بوسينا كے اسلامی تحقيقاتی كالج كے استاد " يوسف راميچ" تيونس كی انجمن انسان شناسی كے صدر " حسن الشعبانی " ہنگری میں پہلی حزب اسلامی كے بانی اور مترجم قرآن و نہج البلاغہ " بالاژ میھالفی" البانیہ كی مسجد اہل البيت ﴿ع﴾ كے صدر " كمال الدين ركا" لبنان كی جمعيت القرآن كےمدير " محمد كركی" اور الجزائر كے علوم اسلام كالج كے قرآن كے استاد اور محقق " عبدالحليم قابہ" نے مذاہب اسلامی يونيورسٹی كے چانسلر حجتہ الاسلام والمسلمين " عبد الكريم بی آزار شيرازی" اور اس يونيورسٹی كے تعليمی و تحقيقاتی اسسٹنٹ " زرھانی " سے ملاقات كی۔
حجة الاسلام والمسلمين بی آزار شيرازی نے اس ملاقات میں مذاہب اسلامی يونيورسٹی كا مختصر تعارف كرواتے ہوئے كہا كہ اس يونيورسٹی میں مندرجہ ذيل پانچ ڈيپارٹمنٹ ہیں۔ فقہ مذاہب اسلامی، علوم قرآن ، كلام، فلسفہ اديان اور تاريخ
مذاہب اسلامی يونيورسٹی كے چالنسلر نے اسلامی دنيا كے قرآن سے قرآن كی تفسير كرنے والے دو علماء كے گروپ كی طرف اشارہ كرتے ہوئے كہا كہ ايك مصر كے دانشور " محمد عبدہ" اور ان كے شاگرد اور دوسرے فيلسوف اور مفسر قرآن " علامہ طباطبائی" اور ان كے شاگردہیں۔ اس يونيورسٹی كی تعليمی شعبے كے انچارج " زرھانی '' نے مجلہ " فروق وحدت " میں ان محققين كے مقالوں كو نشر كرنے كے لیے آمادگی كا اظہار كيا۔ انھوں نے آخر میں " سيد جلال الدين مير آقائی" كی عربی زبان پر مشتمل كتاب " تكثر گرابی مذہبی در اسلام و نظريات دانشمندان " كو ان وزٹ كرنے والے حضرات كو ہدیہ ديا۔
292220