نئی دہلی كی جمعيت الفلاح كے سيكرٹری جنرل قاری " مہد ياسیں" نے بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" كے نئی دہلی میں گئے ہوئے نامہ نگار سے بات چيت كرتے ہوئے كہا كہ ان آخری چند سالوں میں مصر اور ايران كے كئی قاری ہندوستان آئے ہیں اور انھوں نے مختلف شہروں میں پروگرام كیے ہیں ليكن ہندوستان كے مسلمانوں نے ايرانی قراء كو بہت زيادہ پسند كيا ہے اور لوگ ايرانی قراء كی تلاوت قرآن كو سننے كے لیے كئی گھنٹے پہلے اس مقام پر پہنچ جاتے تھے جہاں تلاوت پروگرام منعقد ہونا ہوتا تھا۔ ياسين نے ہندوستان میں تجويد اور قرائت قرآن كی تعليم نہ ہونے كے برابر بيان كرتے ہوئے ايران كے مربوطہ عہديداروں سے اپيل كی كہ وہ ايران كےمایہ ناز قراء كو ہندوستان بھيج كر اس ملك میں قرائت قرآن كی تعليم كے لیے ہم سے تعاون كریں۔ جمعيت الفلاح كے سيكرٹری جنرل نے ہندوستان كے مختلف شہروں میں اہل سنت كی قرآن سرگرميوں كی طرف اشارہ كرتے ہوئے كہاكہ علاقے كے اہل سنت كے درميان حفظ قرآن كا بہت شوق پايا جاتا ہے۔ اور اس وقت یہاں پر بہت سے حفاظ قرآن موجود ہیں جنھوں نے مختلف بين الاقوامی مقابلوں میں شركت كی ہوئی ہے اور انشاءاللہ ايران میں نومبر میں منعقد ہونے والے مقابلوں میں بھی یہ حفاظ شركت كریں گے۔ انھوں نے آخر میں ہندوستان كے شيعوں اور اہل سنت كے درميان روابط كو بہترين قرار ديتے ہوئے كہاكہ اس ملك میں نرمی اور بھائی چارے كی فضاء كی وجہ سے نہ فقط شيعوں اور سنيوں بلكہ مسلمانوں اور غير مسلموں كے روابط بھی اچھے ہیں۔
302510