بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی " ايكنا'' نے " معا" سائیٹ كے حوالے سے نقل كيا ہے كہ علی رشيد النجار نے اس بارے میں كہا كہ قرضاوی كے شيعہ مخالف بيانات ، وقت كے حالات كےمناسب نہیں تھے اور عالم اسلام میں فتنہ و اختلافات كی آگ بھڑكانے كے علاوہ كوئی اثر نہیں ركھتے۔ غزہ میں الازہر يونيورسٹی كے اسلامی ريسرچ كے شعبے كے بانی اور اس يونيورسٹی كےاستاد نے مسلمانوں سے اپيل كی ہے كہ وہ ان سخت حالات میں تعصب، فتنہ اور تفرقہ آميز مسائل سے اجتناب كریں۔
انھوں نے اميد ظاہر كی ہے كہ قرضاوی ، عراق میں موجود امريكہ كے خلاف جدوجہد كرنے میں اپنی تمام تر كوششوں كو بروئے كار لائیں كيونكہ اس وقت اس ملك كے مسلمانوں كی عزت و آبرو سے كھيلا جا رہا ہے۔ جب كہ قرضاوی نے اس كے بارے میں كوئی فتوی نہیں ديا ہے۔ علی رشيد النجار نے مشرق وسطی بالخصوص قطرمیں امريكی فوجيوں كےنفوذ كے مقابلے میں علامہ قرضاوی كی خاموشی پر شديد نكتہ چينی كرتے ہوے كہا كہ كيا علامہ قرضاوی مشرق وسطی میں امريكی فوجيوں كی سازشوں سے آگاہ نہیں ہیں۔
303605