بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" نے اسلام آن لائن سائیٹ كے حوالے سے نقل كيا ہے كہ يوسف قرضاوی نے مصر كی ہيومن رائٹس كونسل كے سيكرٹری جنرل "احمد كمال ابو مجد" كے نام ايك كھلے خط میں ايران پر اپنے الزامات كی تكرار كرتے ہوئے كہا كہ سنی معاشروں میں تشيع كے پھيلاو كے لیے ايران كی كوششوں پر خاموشی كرنا حقيقت سے فرار كرنے كے مترادف ہے۔ عالم اسلام كی علماء يونين كے سربراہ نےاپنے اس خط میں مزيد كہا كہ انھوں نے كبھی بھی مسلمانوں كےدرميان فتنہ و تفرقہ كی بات نہیں كی ہے اور ہميشہ اسلامی مذاہب كے درميان اتحاد و وحدت كی بات كی ہے ليكن تشيع كے پھيلاو كا مقابلہ كرنے كے لیے حكمت اور ميانہ روی سے كام ليا جائے۔ قرضاوی نے اپنے تشيع مخالف بيانات پر اہل سنت كے دانشوروں كے وسيع پيمانے پر رد عمل پر تعجب كا اظہار كرتے ہوئے كہا كہ مذاہب اسلامی كے اتحاد و وحدت كے لیے ان كے اقدامات بہت زيادہ ہیں۔ انھوں نے كہا كہ تقريب مذاہب اسلامی كے سيمينار كو منعقد ہوئے تقريباً دس سال ہو چكے ہیں ليكن ابھی تك مذہب شيعہ كی سنی معاشروں میں نشرواشاعت كے لیے منظم پروگرامنگ سرمایہ كاری اور شيعہ مسلك كی تبليغ كےلیے مراكز كی تاسيس كا كام جاری ہے اسی وجہ سے انھوں نے مجبور ہو كر خطرے كی گھنٹی بجائی ہے۔ قرضاوی نے اپنے بيانات میں ايران پر نئے الزامات لگا تے ہوئے دعوی كيا ہے كہ یہ ملك فلسطينی گروہوں میں تفرقہ ايجاد كرنے كی كوشش كر رہا ہے اور یہ ايك بہت بڑا ظلم ہے جس سے چشم پوشی نہیں كی جا سكتی۔ قرضاوی نے كچھ عرصہ پہلے روزنامہ" المصری اليوم" سے گفتگو كرتے ہوئے شيعوں كو اہل بدعت قرار ديا تھا جس پر عالم اسلام دانشورں نے شديد نكتہ چينی كی تھی۔ مصر كے مایہ ناز دانشور احمد كمال ابو مجد نے قرضاوی كے ان سخت بيانات كے بعد ان سے مطالبہ كيا تھا كہ وہ اس قسم كے بيانات دينے سے پرہيز كریں۔
305047