نئی دہلی میں اسلامی جمہوریہ ايران كے كلچر ہاوس كے ڈائريكٹر " كريم نجفی برزگر"' نے بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "'ايكنا"" كے اعزازی نامہ نگار سے بات چيت كرتے ہوئے كہا كہ فارسی زبان سے استفادہ كر كے بغير كسی حساسيت سے غير مسلموں اور اہل سنت میں ، اسلامی ثقافت اور ايران كے اسلامی انقلاب كو ہندوستان كےلوگوں میں منتقل كيا جا سكتا ہے۔ برزگر نے كہا كہ اسلامی انقلاب كی كاميابی كے بعد ايران میں بہت سے قرآنی آثار كو پيش كيا گيا ہے۔ انھیں دوسرے ممالك كے مسلمانوں كو تعارف كروانے كےلیے بہت زيادہ كام ہوا ہے۔يونيورسٹيوں میں قرآنی شعبے ايجاد ہوئے اور بہت سےقرآنی دانشور وں اور محققين كی تربيت كی ہے۔نئی دہلی میں ايرانی ڈائريكٹر نے واضح كيا كہ ايسا نہیں ہے كہ ہم حساسيت كی بنا پر اسلامی اور دينی سرگرميوں كو چھوڑ دیں بلكہ ہم ہندوستان میں شيعوں كے ۸۰ سے زائد دينی مدارس سے ارتباط قائم كیے ہوئے ہیں ہم ،شيعہ علمائ ائمہ جمعہ اور دينی اور مذہبی شخصيات سے تبادلہ خيال كرتے ہیں اور ہم ان كے دينی سيميناروں میں شركت كرتے ہیں۔ انھوں نے اہل سنت كےساتھ تعلقات كو دوستانہ قرار ديتے ہوئے كہا كہ ہم ان كے نماز جمعہ میں شركت كرتے ہیں اور ان كے علمی مراكز منجملہ تحريك علمائ لكھنو، دارالعلوم ديوبند اور نئٰ دہلی میں جامعہ ملیہ اسلامی سے تعاون كرتے ہیں اور اہل سنت كے بعض مدارس میں فارسی زبان كی تعليم ديتے ہیں۔ نجفی برزگر نے آخر میں كہا كہ اس كلچر ہاوس نے دين اسلام كی تبليغ كی خاطر " راہ اسلام" نامی ايك مجلہ كی اشاعت كی ہے اور ہماری كوشش ہے كہ ہم ہندوستان میں ايك بہت بڑے قرآنی مركز كی بنياد ركھیں اور اس مركز كے ذريعے ہم شيعہ اور اہل سنت كے دينی مراكز سے وسيع پيمانے پر ارتباط قائم ركھیں گے۔
304563