بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" نے تيونس كی خبررساں ايجنسی " اے ايف پی" كےحوالے سے نقل كيا ہے كہ دونوں راہنماوں كی ملاقات كے بعد یہ نتيجہ نكالا گيا ہے كہ عالم اسلام كا كلينڈر بھی ايك ہونا چاہیے اور عيدیں اور دوسرے مذہبی تہوار بھی ايك ہی دن منانے چاہيیں۔ واضح رہے كہ قمری مہينہ عيسوی مہينے كےبرخلاف چاند كو ديكھنے سے شروع ہوتا ہےاور بہت سارے مسلمان براہ راست چاند كو ديكھنے كو معيار سمجھتے ہیں اس لیے مہينے كےآغاز كا فرق شروع ہو جاتا ہے۔ اور دوسرے علماء علم نجوم كی روشنی میں دنيا كےكسی بھی خطے میں ديكھے گئے چاندكو تمام عالم اسلام كے لیے كافی سمجھتے ہیں۔ اسی وجہ سے ماہ مبارك رمضان اور دوسری عيدوں كا فرق بھی پيدا ہوجاتا ہے۔
314994