بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی " ايكنا" كی رپورٹ كےمطابق " المحيط" خبررساں سائٹ نے لكھا ہے كہ بحرينی حكومت نے پہلی بار یہ عائلی قانون پاس كياہے جس كے تحت عورت كچھ خاص شرائط كےساتھ " جيسے نان و نفقہ نہ دينے يا لمبی مدت كےلیے غائب ہو جانے كی صورت میں " طلاق كا اختيار ركھتی ہے۔ بحرينی پارليمنٹ كےممبران نے اس قانون كےتحت عورت كو یہ اختيار بھی ديا ہے كہ وہ عقد كےذيل میں شوہر كو دوسری شادی نہ كرنے كی شرط بھی لگا سكتی ہے۔ اس جديد قانون كو " عائلی احكام كے قانون" كا نام ديا گيا ہے۔ اس میں تاكيد كی گئی ہے كہ یہ قانون دين اسلام اور شريعت سےماخوذ ہے۔ بحرينی حكومت نے اپنے حالیہ اجلاس میں جو " شيخ خليفہ بن سلمان آل خليفہ " كی سربراہی میں ہوا ہے كہا كہ یہ قانون مذہب جعفری اور مذہب سنی كے عائلی نظام كے تحت ہے۔ اسلامی فقہ میں طلاق كی چھ اقسام حرام ، مكروہ، واجب، سنت، رجعی اور خلع بيان كی گئی ہیں ۔
334802