قرآنی محقق محمد رضا صالح نے بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی " ايكنا" سے گفتگو كرتے ہوئے كہا كہ یہ قرآن كا قلمی نسخہ چين كے شہر " لين شيا" سے دريافت ہےیہ شہر صوبہ " لنجو" میں واقع ہے یہ قرآنی نسخہ ايك طولانی كاغذ پر ہے جس كا طول ۶۵۰ سينٹی میٹر اور عرض ۹ سينٹی میٹر ہے اور قرآنی آيات اس كے ۷ سينٹی میٹر عرض پر تحرير كی گئی ہیں۔ اس قرآنی محقق كا كہنا ہے كہ اس قلمی نسخہ میں بااہميت ہندسی اشكال بنی ہوئی ہیں جن كے اندر عربی زبان میں سونے كے پانی سے لكھا گيا ہے۔ اس قلمی نسخہ كی ابتداء میں سورہ فاتحہ كو ايك گنبدی شكل میں تحرير كيا گيا ہے۔ انھوں نے اس قلمی نسخہ كی خاص خصوصيت یہ بتائی كہ اس كی ابتدا میں ايك باريك پٹی پر بسم اللہ كے بعد اللھم صل علی محمد المصطفی وعلی علی المرتضی و علی فاطمہ الزھراء سے لے كر امام مھدی تك چھاردہ معصومين علیھم السلام كے نام ہیں جو جلی حروف میں لكھے گئے ہیں اس كے بعد تمام آيات كو ان اسماء كے اندر تحرير كر كے اس پر سونے كا پانی چڑھا ديا گيا ہے۔ یہ قرآنی نسخہ ۱۱۴ كامل سورتوں پر مشتمل ہے۔ یہ نفيس نسخۃ جس شخص كی ملكيت ہے اس كا تعلق " خواسہ" كی نسل سے ہے اور یہ ايك صوفيا كا گروہ ہے۔ اس شخص كا نام " ماخون جان" ہے جو ۷۶ سال كی عمر كا ہے اور " لين شيا" شہر میں علوم دين كی تدريس كرتا ہے۔ اس كا كہنا ہے كہ یہ قرآنی نسخہ مدينہ منورہ سے چين لايا گيا ہے اور جب چين میں قديمی آثار كو محو كيا جا رہا تھا تو اس نے اسے چھپا ليا تھا تاكہ انقلابيوں كے حملوں سےمحفوظ رہ سكے كيونكہ وہ لوگ دينی آثار كو محو كر رہے تھے لہذا میں نے اسے اپنی زرعی زمين میں ايك جگہ چھپا ديا تھا۔ اور اب یہ نسخہ بہت قديمی ہونے كے باعث خراب ہو رہا ہے۔ اس پر لكھنے والے كا نام تحرير نہیں كيا گيا ہے اور اس قلمی نسخہ كی اسلامی محققين كے نزديك بہت زيادہ اہميت ہے۔
334219