یہوديت میں زمانہ ظہور لوگوں كی قابليت سے وابستہ ہے

IQNA

یہوديت میں زمانہ ظہور لوگوں كی قابليت سے وابستہ ہے

13:06 - December 21, 2008
خبر کا کوڈ: 1721047
فكرو نظر گروپ: زمانہ ظہور كو خدا وند متعال نے اول خلقت سے ہی معين كر دياہے ليكن اگر لوگوں كے اندر لياقت پيدا ہو جائے تو ظہور ہو جائے گا۔ اور اسی لياقت كی بنا پر ظہور كے شرائط بھی مختلف ہو سكتے ہیں۔

بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی" ايكنا" كی رپورٹ كے مطابق یہودی انجمن كے نمائندہ يونس حماسی نے " مہدويت " حضورو غيبت" كے عنوان سے منعقد كیے گئے سيمينار میں علمی بحث میں حصہ ليا۔ اور " فلسفہ انتظار" پر گفتگو كرتے ہوئے اس سوال كا جواب ديا كہ دين یہود میں انتظار كا كيا مطلب ہے؟ انھوں نے جواب میں كہا كہ دين یہود كے تيرہ اصول ہیں جن میں سے ايك موعود پر ايمان يا مسيحا كے ظہور كا انتظار ہے۔ انھوں نے كہا كہ منجی كا ظہور خلقت كے بنيادی مقاصد میں سے ہے اور خداوند نے جو اس خلقت كو وجود بخشا اس كاابتدا سے ہی ايك مقصد تھا اور وہ شخصيت جو اس مقصد كو عملی جامہ پہنائے گی وہ حضرت داؤد ، سليمان كی نسل سے ہے اور اسے مسيحا كہا جاتا ہے۔ انھوں نے كہا كہ خداوند نے ابتدائے خلقت سے ہی ظہور كا وقت معين كر ديا ہے ليكن اس شرط كے ساتھ كہ لوگوں كے اندر لياقت پائی جاتی ہو اور اسی لياقت كی بنا پر ظہور كے شرائط بھی مختلف ہوسكتے ہیں۔ انھوں نے مزيد كہا كہ منجی آكر شريعت كو تبديل نہیں كر سكتا بلكہ صرف شريعت كے نفاذ كی خاطر انكا ظہور ہو گا۔ یہوديت میں انتظار كی اہميت اور مقام فرائض اور واجبات كی طرح ہے اور اس انتظار كے دو پہلو ہیں ايك مسيحا كی طرف سے انتظار ہے اور دوسرا انسانون كی طرف سے كہ وہ منتظر ہیں۔ دين یہود میں مسيحا كی صفات میں سے ايك ان كی صداقت اور صحيح اسلوب ہے كہ جس پر روح الہی حاكم ہو گی۔ وہ عقل و دانش اور خداخوفی سے لبريز ہو گا ، خدا سے الہام لے گااور عدل و انصاف سے لوگوں كے ساتھ برتاو كريگا۔
335019

نظرات بینندگان
captcha