شمعون پيرز سے امن كا نوبل انعام واپس ليا جائے

IQNA

شمعون پيرز سے امن كا نوبل انعام واپس ليا جائے

11:48 - January 20, 2009
خبر کا کوڈ: 1733463
بين الاقوامی گروپ: بوليويا كے صدر نے نوبل پرائز دينے والے ادارے سےمطالبہ كيا ہے كہ ۱۹۹۴ء میں اسرائيلی صدرشمعون پيرز كو ديا گيا امن نوبل انعام واپس ليا جائے۔
بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی" ايكنا" خبررساں ويب سائٹ " الجزيزہ نیٹ" كے مطابق بوليوين صدر" او مورالس" نے كہا ہے كہ نوبل پرائز ايك ايسی شخصيت كو ديا جاتا ہے جس كی عالمی امن برقرار ركھنے كی خاطرخواہ كوششیں رہی ہوں جبكہ شمعوں پيرز نے اس كے برعكس ہزاروں فلسطينی بےگناہ بچوں كا خون بہايا ہے۔ مورالس نےكہا كہ پيرز ايك جنگی مجرم ہے جو آج بھی ڈہٹائی كے ساتھ یہ بيان دے رہا ہے كہ غزہ میں ايك بچہ بھی جاں بحق نہیں ہوا۔ مورالس نے اس بات كی طرف بھی اشارہ كيا كہ وہ بعض دوسرے لاطينی امريكا كے ممالك كے ساتھ مل كر اسرائيل كے غزہ میں جنگی جرائم كے خلاف مقدمہ درج كرائیں گے اس حوالے سے كافی سارا كام مكمل ہو چكا ہے اور ہم اگلے ہفتے ہالينڈ كی عالمی عدالت میں اسرائيل كے خلاف مقدمہ كریں گے۔ بوليويا اور ونزويلا نے پچھلے ہفتے اسرائيل كے ساتھ ہر قسم كے تعلقات ختم كر كے اپنے ممالك سے اسرائيلی سفيروں كو بھی نكال ديا تھا۔
ياد رہے كہ شمعون پيرز كو ۱۹۹۴ میں ياسر عرفات اور اسرائيلی وزير اعظم " اسحاق رابن " كے مابين اوسلو معاہدہ پر دستخط كرانے كی وجہ سے امن كا نوبل پرائز ديا گيا تھا۔
349658

نظرات بینندگان
captcha