بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" نے قطر كے روزنامہ " الشرق" كےحوالے سے رپورٹ دی ہے كہ یہ خط ۳۸ مسلمان سياسی، ثقافتی، اور قانون دان شخصيات كی طرف سے امريكی صدر كو لكھا گيا ہے۔ اس خط میں تمام ۳۸ افراد كے دستخط موجود ہیں۔ اوراس میں آيا ہے كہ دنيائے اسلام بہتر دنيا كی تعمير كے لیے اپنے تمام تر وسائل سے استفادہ كرے گی۔ اس خط میں مسلمان دانشوروں نےامريكی عوام كو باراك اوباما كےعہدہ صدارت سنبھالنے كی مبارك باد پيش كرنے كے بعد باراك اوباما كو خطاب كرتے ہوئے كہا ہے كہ ہم اخلاق، انسانی اقدار، اور حقوق بشر جيسے مسائل پر آپ سے گفتگو كرنا چاہتے ہیں۔ اس خط میں مزيد ذكر كيا گيا ہے كہ ہم مسلمان اسلامی تعليمات پر عمل كرتے ہوئے خدا كےعلاوہ كسی طاقت سے مرعوب نہیں ہوتے اور تمام اديان اور مختلف تہذيبوں كے حقوق كا احترام كرتے ہیں۔ اس خط كے آخر میں دہشت گردی كو دنيا كا ايك ا ہم مسئلہ قرار ديا گيا ہے اورذكر كيا گيا ہے كہ دين اسلام بے گناہ انسانوں كے قتل كو فساد فی الارض قرار ديتا ہے۔ اور اسلام میں اس كو بہت بڑا جرم قرار ديا گيا ہے۔ اسلام صرف دفاع اور ظلم سے مقابلے كی صورت میں جنگ كو جائز قرار ديتا ہے۔
352762