تھائی زبان میں " صحيفہ سجادیہ" كے مترجم " شيخ غلام علی" نے بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی 'ايكنا' سے گفتگو كرتے ہوئے كہا ہے كہ چونكہ دعا بندوں اور خدا كے درميان رابطے كا بہترين ذريعہ ہے اس لیےميری خواہش تھی كہ ترجمے كے لیے ايك ايسی كتاب كا انتخاب كروں جو بندوں كی طرف سےاپنے پروردگار سے راز ونياز پر مشتمل ہو۔ انھوں نے مزيد كہا كہ تھائی لينڈ كا سركاری مذہب بدھ مت ہے اور بدھمت عرفانی مذہب ہے اس لیے تھائی لينڈ میں ايك ايسی كتاب كے ترجمے كی ضرورت تھی جو عرفانی مطالب پر مشتمل ہو اور بدھ مت مذہب كے پيروكاروں كو اسلامی تعليمات سے آشنا كر سكے اس مقصد كی خاطر میں نے " صحيفہ سجادیہ" كے ترجمے كا انتخاب كيا اور ڈیڑھ سال كی كوششوں كے بعد اب یہ ترجمہ مكمل ہوا ہے۔ شيخ غلام علی نے كہا كہ تھائی لينڈ كے مسلمان، مكتب اہل بيت اور بالخصوس امام سجاد (ع) سے بہت كم آگاہی ركھتے ہیں۔ اميد ہے كہ اس كتاب كے ترجمے كے بعد تھائی لينڈ كے مسلمان اور غير مسلمان امام سجاد (ع) كی شخصيت سے آگاہ ہوں گے۔ ياد رہے كہ شيخ غلام علی تھائی لينڈ میں پيدا ہوئے مكتب اہل بيت (ع) سے والہانہ عقيدت كی وجہ سے انقلاب اسلامی ايران كے اوائل میں انھوں نے شہر قم كا رخ كيااور دينی تعليم كے حصول میں مشغول ہو گئے دينی تعليم مكمل كرنے كے بعد واپس تھائی لينڈ چلے گئے اور اس وقت " الہدی" مسجد میں امامت كے فرائض نبھا رہے ہیں اور دينی مسائل كی تعليم میں بھی مصروف ہیں۔
375564