طاہرہ صفار زادہ كا نہج البلاغہ كا انگريزی زبان میں ترجمہ زيور طبع سے آراستہ ہو كر منظرعام پرآ گيا ہے

IQNA

طاہرہ صفار زادہ كا نہج البلاغہ كا انگريزی زبان میں ترجمہ زيور طبع سے آراستہ ہو كر منظرعام پرآ گيا ہے

14:33 - March 30, 2009
خبر کا کوڈ: 1758993
ادبی گروپ: مرحومہ طاہرہ صفار زادہ كی وفات كےچھ ماہ بعد رہنما پبلشرز نے ان كی اس كاوش كو تين زبانوں فارسی ، عربی اورانگريزی میں شائع كيا ہےتاہم نہج البلاغہ كا ترجمہ كامل نہیں ہے بلكہ یہ منتخب ترجمہ ہے۔
بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" كی رپورٹ كے مطابق مرحومہ طاہرہ صفار زادہ بيك وقت فارسی اور انگريزی میں نہج البلاغہ كا ترجمہ كر رہی تھیں جو ان كی بيماری اور رحلت كی وجہ سے نا تمام رہا۔ مرحومہ صفار زادہ نے نہج البلاغہ كے اس ترجمے كے متعلق اظہار خيال كرتےہوئے كہا تھا كہ اس ترجمے میں تاريخی واقعات كو مد نظر نہیں ركھا گيا ہے۔ بلكہ فقط حضرت علی علیہ السلام كے نقطہ نظر پر اكتفا كيا گيا ہے۔ انھوں نے اس سے پہلے قرآن مجيد اور دعائے جوشن كبير كا بھی ترجمہ كيا ہے۔ وہ كہتی تھیں كہ تاريخی موضوعات كا ادراك غير ملكی قاری كے لیے مشكل ہو جاتا ہے۔ اس لیے ميری كوشش ہوتی ہے كہ مفہومی ترجمہ كيا جائے۔ انھوں نے مزيد كہا تھا كہ یہ ترجمہ مكمل نہج البلاغہ كا ترجمہ نہیں ہے بلكہ حضرت اميرالمومنين كے خطوط، حكمتوں اور چند اہم خطبوں كا ترجمہ ہے۔ وہ كہا كرتی تھیں كہ ميری سمجھ میں نہیں آ رہا تھا كہ كہاں سے شروع كروں البتہ بعض موضوعات ميرے ذہن میں تھے اور ميری خواہش تھی كہ ان پر كام كروں مثال كے طور پر مالك اشتر كے نام اميرالمومنين(ع) كا خط ۔ میں سمجھتی ہوں تمام نہج البلاغہ سے فقط اس خط كا ترجمہ كر ديتی تو كافی تھا۔ نہج البلاغہ كا یہ ترجمہ ۲۲۴ صفحات پر مشتمل ہے جو ۳۰۰۰ كی تعداد میں شائع ہوا ہے۔ طاہرہ صفارزادہ ۱۳۱۵ ہجری شمسی كو سيرجان میں پيدا ہوئیں۔ انھوں نے ادبيات اور انگريزی زبان كی تعليم تہران يونيورسٹی سے حاصل كی اورمزيد تعليم كے لیے انھوں نے امريكہ كا سفر بھی كيا۔ ترجمے كے علاوہ وہ چند كتابوں كی مؤلف بھی ہیں۔
381025

نظرات بینندگان
captcha