بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" نے oic كی ويب سائٹ كے حوالے سے رپورٹ دی ہے كہ اسرائيل نے اموی دور كے دو تاريخی پتھر مسجد الاقصی سے چوری كر كے اسرائيلی پارليمنٹ كے سامنے نصب كر دیے ہیں۔ احسان اوغلو نے كہا كہ اسرائيل اسلامی اور عربی مقامات كو غارت كرنا چاہتا ہے۔ انھوں نے مزيد كہا كہ مسلمان اسرائيل كے اس اقدام كو اسلامی اقدار پر حملہ قرار ديتے ہیں اور اپنے آپ كو اس حملے كے جواب اور مسجد الاقصی كی حمايت كے لیے آمادہ كر رہے ہیں۔ احسان اوغلو نے كہا كہ قدس شريف پوری بشريت كی ميراث ہے ۔ بين الاقوامی قوانين كو اس كے تاريخی آثار كی حمايت كرنی چاہیے اور اسرائيل كو یہ حق حاصل نہیں ہے كہ وہ كسی بہانے سے ان آثار كی طرف دست دراز كرے۔ انھوں نے ادارہ يونسكو سے درخواست كی كہ وہ قدس شريف كے تاريخی آثار كے متعلق اپنی ذمہ داريوں پر عمل كرے۔ اكمل الدين احسان اوغلو نے آخر میں كہا كہ آئندہ ماہ مراكش میں منعقد ہونے والے " القدس" كے موضوع پر اجلاس میں قدس شريف كے تاريخی آثار پر تجاوز كے مسئلے پر سب سے پہلے بحث و گفتگو كی جائے گی۔
384544