رائٹر اور قرآنی محقق " محمد رضا صالح" نے قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" سے گفتگو كرتے ہوئے كہا كہ نہج البلاغہ كا یہ ترجمہ عربی متن كے ساتھ چين كے دارالحكومت بيجنگ میں شائع ہوا ہے۔ انہوں نے مزيد كہا ہے كہ ۲۰۰۴ء میں یہ ترجمہ پہلی بار عربی متن كے بغير شائع ہوا تھا ليكن مترجم كی طرف سے نظرثانی كے بعد اب یہ ترجمہ عربی متن كے ساتھ شائع ہوا ہے۔ اس ترجمہ میں ايك صفحے پر عربی متن اور اس كے بالمقابل دوسرے صفحے پر چينی زبان میں ترجمہ ہے اور مترجم نے جہاں پر ضرورت محسوس كی ہے وہاں عربی متن كی وضاحت بھی كی ہے تاكہ قاری كو نہج البلاغہ كے مطالب سمجھنے میں مشكل پيش نہ آئے۔ محمد رضا صالح نے كہا كہ مترجم نے اس ترجمے میں نہج البلاغہ كی شيعہ و سنی شروح سے استفادہ كيا ہے۔ انہوں نے كہا كہ اگرچہ محمود شمس الدين كا تعلق سنی مسلك سے ہے ليكن انہوں نے اميرالمؤمنين حضرت علی (ع) سے خاص عقيدت كی وجہ سے چينی زبان میں نہج البلاغہ كا ترجمہ كر كے چينی مسلمانوں كے سپرد كيا ہے۔ انہوں نے اس كتاب كے مقدمے میں حضرت علی (ع) كے فضائل اور ان كی سيرت پر قلم اٹھايا ہے۔
442391