بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" شعبہ بالكان نے اخبار العالم سائٹ كے حوالے سے نقل كيا ہے كہ تركی كے ادارہ ديانت كے سربراہ نے اس بارے میں كہا ہے كہ بوسنيا كے مسلمانوں كی درخواست كے جواب میں یہ مسجد تركی كی مدد سے بنائی جا رہی ہے۔ بردك اوغلو نے مزيد كہا كہ ۷۰۰ افراد كی گنجائش پر مشتمل یہ مسجد دونوں ممالك كے عوام كے درميان بھائی چارے كی فضا كو مزيد مستحكم كرنے كے لئے اہم كردار ادا كرے گی۔
قابل ذكر ہے كہ بوسنيا كی مساجد اسلامی معماری كا شاہكار گردانا جاتی ہیں اور ان كے مينار اور گنبد تانبے اور دوسری خاص قسم كی دھاتوں سے مزين ہونے كی وجہ سے ايك خاص قسم كی زيبائی اور خوبصورتی كا منظر پيش كرتے ہیں۔
448449