بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی ''ايكنا" نے كويتی روزنامہ "الدار" كے حوالے سے نقل كيا ہے كہ كويتی پارليمنٹ كے نمائندے "فيصل الدويسان" نے اس سلسلے میں كہا كہ انتہائی افسوس سے كہنا پڑرہا ہے كہ قومی اور مذہبی اختلافات كو ختم كرنے پرمبنی امير كويت كے بيان كے باوجود كويت كی وزارت داخلہ نے ايك تعصب آميز اقدام كرتے ہوئے اس ملك میں شيعہ علماء كے داخلے پر پابندی عائد كر دی ہے۔ فيصل الدويسان نے مزيد كہا كہ كويت كی وزارت داخلہ كا یہ اقدام ۱۹۶۲ء كے قانون كے خلاف ہے جس كے تحت مختلف قوموں اور اديان كے پيروكاروں كو آزادی سے رہنے كی اجازت دی گئی ہے۔ انہوں نے آخر میں كہا كہ كويت كی وزارت داخلہ كو اس قسم كی پابنديوں سے اجتناب كرنا چاہیے اور كويتی معاشرے میں صلح و آشتی اور بھائی چارے كی فضا كو قائم كرنا چاہیے۔
451945