بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" نے "umma-united" كے حوالے سے نقل كيا ہے كہ اس سيمينار كا مقصد فرانس میں مقيم مسلمان خواتين كے خلاف امتيازی سلوك روا ركھنے كے خلاف جدوجہد اور ان كے مطالبات كی وضاحت كرنا ہے۔
اس انجمن كے بيانیے میں آيا ہے كہ فرانس میں اسلام سے خوفزدہ كرنے اور امتيازی سلوك روا ركھنے كا مسئلہ كوئی نيا مسئلہ نہیں ہے بلكہ فرانسيسی معاشرے نے گزشتہ ايك صدی كے دوران اس مسئلے كو اپنی آغوش میں پروان چڑھا ركھا ہے اور آج ہم اس ملك میں اسلام سے خوفزدہ كرنے كے مسئلہ پر پہلے سے زيادہ عمل كيا جا رہا ہے اور مردوں كی نسبت بيشتر مسلمان خواتين اس مسئلے كی بھينٹ چڑھی ہوئی ہیں۔ اور اس نسل پرستی اور امتيازی سلوك كی پہلی دليل مارچ۲۰۰۴ء میں فرانس كے سكولوں اور سركاری دفاتر میں اسلامی حجاب پر پابندی كے قانون كی منظوری ہے جو ظاہراً جمہوری معاشرے میں نسل پرستی كا واضح ثبوت ہے۔ ياد رہے كہ انجمن "بے اختيار نسل" فرانسيسی حريت پسند خواتين كا مجموعہ ہے جو اس ملك میں نسل پرستی اور امتيازی سكول روا ركھنے كے خلاف جدوجہد كر رہی ہیں۔
483853