معنوی آرٹ پر آرٹ كی انتہا ہے

IQNA

معنوی آرٹ پر آرٹ كی انتہا ہے

13:32 - November 02, 2009
خبر کا کوڈ: 1843778
آرٹ مركز: تمام آرٹز كی ايك لحاظ سے معنوی آرٹ كی صورت میں تعريف كی جا سكتی ہے كيونكہ فن، ماہر آرٹ كے تفكر كا انعكاس ہے۔
مجسمہ ساز ماہر آرٹ "بابك حيدری" نے بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی 'ايكنا" سے گفتگو كرتے ہوئے كہا ہے كہ تمام آرٹز كی بازگشت ايك لحاظ سے معنوی آرٹ كی طرف ہے كيونكہ فن اور آرٹ، ماہر آرٹ كے تفكرج كا جلوہ ہے۔
حيدری نے مزيد كہا كہ آرٹ كو مختلف شعبوں میں تقسيم كرنا نا ممكن ہے اور آرٹ میں شہود كے مقام پر فائز ہونا چاہیے تاكہ ايك آرٹ شاہكار ايجاد ہو اور معنوی آرٹ كو ايجاد كرنے والا آرٹ ايك ايسا شاہكار ہے جو ايك خاص شرائط اور مادی امور سے ہٹ كر وجود میں آتا ہے۔
انہوں نے اسلامی اور معنوی آرٹ كے بارے میں اسلامی آرٹ ايك مومن اور متدين شخص كے افكار اور آراء سے پيدا ہونے والا آرٹ ہے اور ايك مومن شخص اسلام پر عقيدہ ركھنے كے ذريعے جو چيز خلق كرتا ہے وہ اسلامی آرٹ ہے كيونكہ اس كا افكار كا سرچشمہ یہی اس كا اعتقاد ہے۔
485604

نظرات بینندگان
captcha